رسائی کے لنکس

logo-print

القاعدہ کےگروپ کی طرف سےعراقی ووٹروں کوتشدد کا انتباہ


القاعدہ کے ایک گروہ نے عراق میں انتخابی ‘کرفیو’ کا اعلان کیا ہے، اور سنی مسلمانوں کو متنبہ کیا ہے کہ اگرکسی نے اتوار کو انتخابات کا رُخ کیا تو اُسے تشدد کا سامنا کرنا پڑے گا۔

عراق کی اسلامی ریاست نے جمعے کو انٹرنیٹ پر ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے پارلیمانی انتخاب میں سنیوں کی شرکت محض اکثریتی شیعہ مسلمانوں کو تقویت بخشنے کا باعث بنے گی۔

انتخابات کے پیشِ نظر، عراقی حکومت سکیورٹی کے بندوبست میں اضافہ کرتی رہی ہے۔

جمعرات کو بغداد کی پولنگ اسٹیشن کے قریب ہونے والے بم دھماکے میں کم از کم 15افراد ہلاک ہوئے، اور امریکی عہدے داروں کا کہنا ہے کہ عراقی فوج نے کئی ممکنہ حملوں کو ناکام بنا دیاہے۔

تشدد کے خطرے کے باوجود، عراقی مذہبی رہنما اپنے پیروکاروں پر زور دیتے رہے ہیں کہ وہ انتخابات میں اپنا ووٹ ضرور ڈالیں۔ کچھ کا تویہ بھی کہنا ہے کہ ووٹ دینا عین عبادت ہے۔

ملک کے طول و ارض میں اِن انتخابات کوعراق کے اہل کاروں کی طرف سے کیے گئے سکیورٹی کے انتظامات، اور حکومت کی پُر امن تبدیلی لانے کی اہلیت کا ایک امتحان قرار دیا جا رہا ہے۔

جمعے کو عراقی وزیرِ اعظم نوری المالکی نے اپنی حکومت کے کارناموں پر روشنی ڈالی، جس میں سکیورٹی میں بہتری لانا شامل ہے۔

اُنھوں نے عراقی اور امریکی سلامتی کے معاہدے کا ذکر کیا جس میں اِس سال کے اواخر تک امریکی افواج کا انخلا شامل ہے۔

سنہ2003ء، جب امریکی قیادت میں لشکر کشی کے نتیجے میں صدام حسین کو ہٹایا گیا، تب سے ہونے والے یہ دوسرے پارلیمانی انتخابات ہیں۔

XS
SM
MD
LG