رسائی کے لنکس

برگیڈیئر جنرل یحیٰ رسول نے بتایا ہے کہ موصل کے مغرب میں داعش کے زیر کنٹرول علاقہ 9 فی صد سے زیادہ نہیں رہا، جسے دریائے دجلہ نے مزید تقسیم کیا ہوا ہے۔ اُنھوں نے رائٹرز کو بتایا کہ ''یہ بہت ہی چھوٹا علاقہ ہے۔ خدا نے چاہا تو یہ لڑائی کا آخری مرحلہ ثابت ہوگا''

امریکی حمایت یافتہ عراقی افواج نے اتوار کے دِن داعش کے زیر کنٹرول موصل کے آخری ٹھکانے کی جانب پیش قدمی کر دی ہے، ایسے میں جب شہر پر قبضے کے حصول کی لڑائی اپنے آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہے، جس کے لیے سات ماہ تک شہری علاقہ شدید لڑائی کا میدانِ جنگ بنا رہا ہے۔


شدت پسندوں کا قبضہ اب فقط موصل کے چند مغربی حصوں تک محدود ہوکر رہ گیا ہے، جو چند اضلاع کے نصف کے برابر علاقہ ہے، جس میں قدیم شہر بھی شامل ہے، جہاں تنگ گلیوں اور گنجان آباد علاقے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے، داعش اپنا آخری حربہ استعمال کر سکتی ہے۔


برگیڈیئر جنرل یحیٰ رسول نے بتایا ہے کہ موصل کے مغرب میں داعش کے زیر کنٹرول علاقہ 9 فی صد سے زیادہ نہیں رہا، جسے دریائے دجلہ نے مزید تقسیم کیا ہوا ہے۔


اُنھوں نے رائٹرز کو بتایا کہ ''یہ بہت ہی چھوٹا علاقہ ہے۔ خدا نے چاہا تو یہ لڑائی کا آخری مرحلہ ثابت ہوگا''۔


جوائنٹ آپریشنز کمانڈ کے ایک بیان کے مطابق، 'انسداد دہشت گردی سروس' کی الیٹ فورس نے اتوار کے روز علی الصبح عریبی اور رفائی کے علاقوں پر حملہ کیا۔
ساتھ ہی، فوج کے نویں ڈویژن اور وزارت داخلہ کی 'ایمرجنسی ریسپونس ڈویژن' نے 17 تموز کے داعش کے گڑھ کے خلاف کارروائی کی ہے۔


نائنتھ ڈویژن کے کمانڈر، لیفٹیننٹ جنرل قاسم نزال نے اتوار کے روز سرکاری تحویل میں کام کرنے والے ٹیلی ویژن کو بتایا کہ ''داعش آخری ہچکیاں لے رہی ہے۔ داعش کے لڑاکے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں اور اپنے محاذوں سے پسپائی اختیار کر رہی ہے''۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG