رسائی کے لنکس

logo-print

مغربی موصل کے لیے عراق فورسز کی تازہ پیش قدمی


داعش کے زیر قبضہ مغربی موصل میں ایک عراقی خاندان

صوبائی کونسل اور دیگر سرکاری عمارتوں کا قبضہ حاصل کر لینے سے عراقی فورسز کو شدت پسندوں پر حملوں میں مدد ملے گی

امریکہ کی حمایت یافتہ عراقی فورسز نے اتوار کو دریائے دجلہ کے مغربی کنارے پر موصل شہر میں شدت پسند تنظیم داعش کے خلاف پیش قدمی شروع کی۔

جوائنٹ آپریشنز کمانڈ کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل یحییٰ رسول نے عراق کے سرکاری ٹی وی کو بتایا کہ عراقی فورسز شہر کے قدیمی مرکز کی طرف بڑھنے کے لیے لڑ رہی ہیں اور جنوب اور جنوب مغرب سے ان کی پیش قدمی جاری ہے۔

وزارت داخلہ کے ایک عہدیدار نے بین الاقوامی خبر رساں ایجنسی "روئٹرز" کو بتایا کہ سریع الحرکت فورس کے جوان جنوب میں داواسا اور دانادان کے اضلاع سے پیش قدمی کر رہے ہیں اور وہ شہر میں سرکاری عمارتوں سے چند سو میٹر کے فاصلے پر ہیں۔

صوبائی کونسل اور دیگر سرکاری عمارتوں کا قبضہ حاصل کر لینے سے عراقی فورسز کو شدت پسندوں پر حملوں میں مدد ملے گی اور یہ داعش کے اس شہر پر تسلط کے خلاف بھی ایک اہم علامت تصور کی جائے گی۔

یہ عمارتیں تباہ ہو چکی ہیں اور یہ داعش کے زیر تصرف بھی نہیں رہیں۔

عراقی فورسز نے تقریباً ایک سو دنوں کی لڑائی کے بعد جنوری میں موصل کے مشرقی حصے کا قبضہ واگزار کروایا تھا۔

گزشتہ ماہ مغربی حصے پر شدت پسندوں کے خلاف کارروائیوں کا آغاز کیا تھا لیکن گزشتہ 48 گھنٹوں میں خراب موسم کے باعث ان میں تعطل آیا تھا۔

داعش نے 2014ء کے وسط میں عراق اور شام کے وسیع علاقے پر قبضہ کرنے کے بعد موصل کو اپنی نام نہاد خلافت کا عراق میں مرکز قرار دیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG