رسائی کے لنکس

logo-print

عراق: سیاسی اصلاحات کا قانون اتفاقِ رائے سے منظور


وزیرِاعظم العبادی نے کہا ہے کہ وہ نظامِ حکومت میں اصلاحات کا عمل جاری رکھیں گے چاہے اس کی قیمت انہیں اپنی جان کی صورت میں ہی کیوں نہ ادا کرنی پڑے۔

عراقی پارلیمان نے وزیرِاعظم حیدر العبادی کی حکومت کی جانب سے تجویز کردہ اصلاحاتی پیکج منظور کرلیا ہے جس کا مقصد حکومتی نظام میں بدعنوانی کا خاتمہ اور بچت کے اقدامات متعارف کرانا ہے۔

وزیرِاعظم العبادی نے اتوار کو اپنے اس منصوبے کی تفصیلات پارلیمان میں پیش کی تھیں جس میں تین نائب صدور اور تین نائب وزرائے اعظم کے بڑی حد تک نمائشی عہدوں کے خاتمے کی تجویز بھی شامل ہے۔

منصوبے میں سرکاری عہدوں پر تقرریوں کے لیے سیاسی جماعتوں اور فرقوں کے لیے مختص کوٹے کے خاتمے، سرکاری عہدیداران کو ملنے والے محافظوں کی تعداد اور مراعات میں کمی اور بدعنوانی کے الزامات کی تحقیقات آسان بنانے کے لیے عدالتی نظام میں تبدیلیوں جیسے اقدامات متعارف کرائے گئے ہیں۔

منگل کو عراقی پارلیمان کے ارکان کی جانب سے حکومتی منصوبے کی اتفاقِ رائے سے منظوری کے بعد سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر اپنے پیغام میں وزیرِاعظم العبادی نے کہا کہ وہ "نظامِ حکومت میں اصلاحات کا عمل جاری رکھیں گے چاہے اس کی قیمت انہیں اپنی جان کی صورت میں ہی کیوں نہ ادا کرنی پڑے"۔

عراق پر 2003ء کے امریکی حملے اور صدام حسین کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے ملک کے سیاسی نظام میں متعارف کرائی جانے والی یہ سب سے اہم تبدیلیاں ہیں جس کےنتیجے میں وزیرِاعظم کو حاصل اختیارات میں اضافہ ہوگا۔

اصلاحاتی پیکج کے تحت کئی وزارتوں کو باہم ملادیا گیا ہے جس کےنتیجے میں وزرا کی تعداد میں کمی لائی جاسکے گی۔ وزیرِاعظم کو صوبائی گورنروں اور علاقائی عہدیداران کی برطرفی کا اختیار بھی مل گیا ہے۔

عراق میں سرکاری بدانتظامی اور حکام کی بدعنوانی کے باعث حکومت کو حالیہ ہفتوں کے دوران بڑے پیمانے پر عوامی احتجاج کا سامنا کرنا پڑا ہے جس میں سخت گرمی میں ہونے والی حالیہ لوڈ شیڈنگ کےنتیجے میں مزید شدت آئی ہے۔

عوام کے احتجاج اور مظاہروں کے بعد عراق میں شیعہ مکتبِ فکر کے اہم ترین عالمِ دین آیت اللہ علی سیستانی نے بھی وزیرِاعظم حیدر العبادی سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ حکام کی بدعنوانی پر قابو پانے کے لیے اقدامات کریں۔

عراقی معاشرے میں کسی بھی سیاست دان سے زیادہ بارسوخ حیثیت کے حامل آیت اللہ علی سیستانی کی جانب سے اصلاحاتی پیکج کی حمایت کے بعد ارکانِ پارلیمان پر اس کی منظوری کے لیے سخت دباو تھا جس کا اظہار منگل کو ہونے والی رائے شماری میں بھی ہوا۔

پارلیمان کے ارکان نے اصلاحاتی پیکج کو بغیر بحث اور کسی ترمیم کا مطالبہ کیے بغیر ہی جوں کا توں منظور کرلیا۔

XS
SM
MD
LG