رسائی کے لنکس

logo-print

عراق: انتخابی امیدواروں کی اہلیت کے فیصلے کے خلاف مظاہرے


اتوار کے روز عراق میں شیعہ مسلمانوں نے ایک ایسے موقع پر مظاہرے کیے جب کہ قانون ساز ، سابق صدر صدام حسین کے بعث دور کے ساتھ مشتبہ رابطے رکھنے والے امیدواروں کو قومی انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دینے کے فیصلے پر بحث کی تیاری کررہے ہیں۔


شیعہ اکثریت کے شہروں میں مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے، انہوں نے عراق کے سابق ڈکٹیٹر صدام حسین کی بعث پارٹی کے دور کے خلاف ریلیاں نکالیں۔


عراقی پارلیمنٹ اتوار کے روز ایک خصوصی اجلاس میں، اس ہفتے اپیل کورٹ کے اس فیصلے پر بحث کررہی ہے جس میں تقریباً پانچ سو امیدواروں کو ، جن پر پارلیمنٹ میں نشست سنبھالنے تک، بعث پارٹی سے تعلق ثابت نہیں ہوجاتا، اگلے مہینے ہونے والے انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دی گئی ہے۔


بعض سنی راہنما عراق کی شیعہ قیادت کی حکومت پر اپنے اقتدار کو مستحکم رکھنے کے لیے امیدواروں کو بلیک لسٹ کرنے کا الزام عائد کرتے ہیں۔


ایک اور خبر کے مطابق عراق کے ایک شیعہ عسکریت پسند گروپ نے کہا ہےکہ اس نے ایک امریکی کنٹریکٹر کو اغوا کر لیا ہے اورانہوں نے انٹرنیٹ اس کی ایک ویڈیو پوسٹ کردی ہے جو بظاہر ان کے دعویٰ کی تصدیق کرتی ہے۔


لیگ آف رائیٹیس کے ارکان نے ہفتے کے روز کہا کہ انہوں نے اس شخص کو اس لیے اغوا کیاتھا کیونکہ عراقی حکومت گروپ کے مطالبے ماننے پر تیار نہیں تھی۔ ان مطالبوں میں عراقی قیدیوں کی رہائی اور عراق سے غیر ملکی فوجیوں کی واپسی شامل تھی۔

XS
SM
MD
LG