رسائی کے لنکس

logo-print

عراقی الیکشن میں 62 فیصد ووٹروں نے ووٹ ڈالے


عراقیوں نےنئى پارلیمنٹ کو چُننے کےلیے اتوار کے روزخوں ریز حملوں اور بموں کے دھماکوں سے خوف زدہ ہوئے بغیر گھروں سے نکل کر ووٹ ڈالے

عراق کے الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ 2003 میں صدام حسین کا تختہ اُلٹ دیے جانے کے بعد سے ملک میں دوسرے قومی انتخابات میں ووٹ دینے کے اہل 62 فیصد لوگوں نے ووٹ ڈالے ہیں۔

عراقیوں نے ایک نئى پارلیمنٹ کو چُننے کے لیے اتوار کے روز اُن خوں ریز حملوں اور بموں کے دھماکوں سے خوف زدہ ہوئے بغیر گھروں سے نکل کر ووٹ ڈالے، جن میں 38 لوگ ہلاک ہوئے ۔بیشتر ہلاکتیں بغداد میں ہوئیں۔

الیکشن کمیشن کے عہدے داروں نے پیر کے روز کہا ہے کہ اس بار ووٹ ڈالنے والوں کی تعداد ، پچھلے سال کے صوبائى انتخابات کے ووٹروں سے بڑھ گئى۔ لیکن 2005 کے پارلیمانی انتخابات کے ووٹروں سے کم رہی۔

اتوار کی پولنگ میں سُنّی مسلمانوں نے پہلے کے مقابلے میں زیادہ بڑی تعداد میں ووٹ ڈالے ہیں۔پانچ سال پہلے سُنیوں نے شیعہ اکثریت کی سیاسی بالادستی پر احتجاج کے طور پر الیکشن کا بائیکاٹ کیا تھا۔

اب ووٹوں کی گنتی جاری ہے اور عہدے دار شکایات کا جائزہ لے رہے ہیں۔پارلیمنٹ کی 325نشستوں کے لیے انتخابی مقابلوں کے مکمل نتائج چند دنوں میں جاری کیے جاسکتے ہیں۔

انتخابات میں مختلف پارٹیوں اور اتحادوں سے تعلق رکھنے والے چھ ہزار سے زیادہ امیدواروں نے حصّہ لیا ہے ۔ توقع نہیں کہ کوئى واحد پارٹی یا اتحاد پارلیمنٹ میں واضح اکثریت حاصل کرسکے گا ۔ اورنئى مخلوط حکومت بنانے کے لیے مختلف پارٹیوں پر مشتمل کسی اتحاد کو تشکیل دینے میں کئى مہینے لگ سکتے ہیں۔

وزیرِ اعظم نوری المالکی شیعہ پارٹیوں کے زیرِ قیادت اپنے اتحاد کو بدستور برسرِ اقتدار رکھنے کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں۔ اُنہیں ایک طرف عراق کے قومی اتحاد میں اپنے سابق اتحادیوں کے چیلنج کا سامنا ہے تو دوسری طرف شیعہ اور سنّی سیاست دانوں کا سیکیولر گروپ عراقیہ انہیں للکار رہا ہے۔ اس گروپ کی قیادت سابق وزیرِ اعظم ایاد علاوی کررہے ہیں۔

پیر کے روز واشنگٹن میں وزیرِ خارجہ ہلری کلنٹن نے انتخابات کو عراق کے لوگوں اور امریکہ اور عراق کے تعلقات کے لیے ایک سنگِ میل قرار دیا۔

XS
SM
MD
LG