رسائی کے لنکس

کُرد ریفرنڈم کے خلاف عراقی وزیرِاعظم کا انتباہ


بارزانی

عبادی نے کہا کہ آزادی کے بارے میں کُرد ووٹ ''خطرناک کشیدگی کا باعث'' بن سکتی ہے، جس سے عراقی اقتدارِ اعلیٰ کی خلاف ورزی ہو سکتی ہے۔ ادھر ترک وزیر اعظم بن علی یلدرم نے متنبہ کیا کہ آزاد ریفرنڈم کرانے کا عراقی کُرد منصوبہ ''فاش غلطی'' ہوگی

عراقی وزیر اعظم حیدر العبادی نے کہا ہے کہ اگر ملک کی کرد آبادی کی جانب سے منعقد ہونے والے ریفرنڈم میں ہنگامہ آرائی ہوئی تو وہ فوجی مداخلت کے لیے تیار ہیں۔

ہفتے کے روز ایسو سی ایٹڈ پریس کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے، عبادی نے کہا کہ آزادی کے بارے میں کُرد ووٹ ''خطرناک کشیدگی کا باعث'' بن سکتی ہے، جس سے عراقی اقتدارِ اعلیٰ کی خلاف ورزی ہو سکتی ہے۔

عبادی نے ایک عراقی نیوز ایجنسی کو بتایا کہ ریفرنڈم کرانے کی کوشش ''آگ سے کھیلنے'' کا معاملہ بن سکتا ہے، جو 25 ستمبر کو کرد نیم سرکاری خطے کے تین صوبوں کے اندر منعقد ہونا ہے۔ اُن علاقوں میں بھی ووٹنگ ہوگی جو کردوں کے کنٹرول میں ہیں، لیکن عراقی حکومت اُن پر دعوے دار ہے۔

'فاش غلطی' پر ترکی کا انتباہ

جمعے کے دِن ترک وزیر اعظم بن علی یلدرم نے متنبہ کیا کہ آزاد ریفرنڈم کرانے کا عراقی کُرد منصوبہ ''فاش غلطی'' ہوگی۔

عراقی کردستان کے علاقائی صدر، مسعود بارزانی ریفرینڈم کے حامی ہیں۔

ترکی، جس کی عراقی کرد علاقے کی سرحد ملتی ہے، اُس کے بارزانی کے ساتھ مضبوط مراسم ہیں۔ لیکن، ترکی رائے دہی کا فیصلہ واپس لینے کے لیے دبائو ڈال رہا ہے۔

یلدرم نے جمعے کے روز اپنے حامیوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ''بس اب 10 دِن باقی ہیں۔ اس لیے، ہم اپنے دوست مسعود بارزانی سے یہ مطالبہ دہراتے ہیں: ابھی وقت ہے کہ یہ غلطی نہ کی جائے''۔

اس انتباہ کے بعد ترکی نے پہلی براہِ راست دھمکی دی ہے۔

یلدرم نے مزید کہا کہ ''ہم تعزیرات عائد نہیں کرنا چاہتے۔ لیکن، اگر بات وہاں تک پہنچی تو ترکی اقدام کرے گا، جس سلسلے میں اقدامات کی نشاندہی کی جا چکی ہے''۔

اس انتباہ سے چند ہی روز قبل، ترک وزیر خارجہ، مولود چاوش اولو نے کردوں سے کہا تھا کہ ''آپ کو ووٹ کی قیمت ادا کرنی پڑے گی''۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG