رسائی کے لنکس

logo-print

بغداد: دھماکے، مظاہرین کا دارالحکومت کے وسطی علاقے پر دھاوا


فائل فوٹو

حکام نے بتایا ہے کہ احتجاجی مظاہرین نے ہفتے کے روز بغداد کے مرکز میں واقع محفوظ علاقے کے اندر دھاوا بول دیا، جہاں پارلیمان اور متعدد غیر ملکی سفارت خانے قائم ہیں۔

سیکیورٹی اور طبی شعبوں سے وابستہ اہل کاروں نے کہا ہے کہ مظاہرین نے حکمت عملی کے حامل خلانی اسکوائر اور پُل کے ان حصوں پر قبضہ جما لیا ہے جہاں سے سڑکیں 'گرین زون' سیکیورٹی کے علاقے کی جانب جاتی ہیں، جس میں حکومت کے اہم محکمہ جات کی عمارتیں واقع ہیں۔

اس کے علاوہ ہفتے کی علی الصبح بغداد کے شمال مغرب میں مظاہرہ کرنے والے ایک شخص کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ یہ بات سیکیورٹی اہل کاروں اور سرگرم کارکنوں نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتائی۔ قواعد کے مطابق، حکام نے یہ بات نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتائی ہے۔

تحریر چوک میں جمعے کی رات گئے ایک بم دھماکہ ہوا، جس میں کم از کم تین افراد ہلاک جب کہ 18 زخمی ہوئے۔ یہ علاقہ احتجاجی تحریک کا گڑھ خیال کیا جاتا ہے۔ جمعے ہی کی رات ایک اور بم دھماکے میں 18 افراد زخمی ہوئے۔ یہ دھماکہ جنوبی شہر، نصیریہ میں ہوا۔

فوری طور پر یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ یہ دھماکے کس کی ایما پر ہوئے۔

احتجاجی مظاہرے روزگار کی عدم دستیابی اور عام آدمی کو سہولیات میسر نہ ہونے پر اکتوبر میں شروع ہوئے۔

ایک مرحلے پر تحریک میں دم خم باقی نہیں رہا تھا، لیکن پھر مظاہروں نے عراق کے حکمرانوں کے مستعفی ہونے اور حکومتی اصلاحات کے مطالبات کی صورت اختیار کی، تاکہ 2003ء میں مطلق العنان صدام حسین کو ہٹا کر امریکی قیادت میں عراق کو فتح کرنے کے بعد کے دور میں بدعنوانی میں ہونے والے اضافے کو ختم کیا جا سکے۔

احتجاجی تحریک شروع ہونے سے اب تک بغداد اور جنوبی عراق میں 300 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG