رسائی کے لنکس

logo-print

شام: متعدد دھماکوں میں درجنوں ہلاک، داعش نے ذمہ داری قبول کرلی


شام میں انسانی حقوق کے خلاف ورزیوں پر نظر رکھنے والے ادارے کا کہنا ہے کہ:’’صاف طور پر یہ حملے ایک ہی وقت ہوئے، اور سبھی کا ہدف سکیورٹی چوکیاں تھیں‘‘

پیر کے روز شام میں ہونے والے بم دھماکوں کے سلسلے کی ذمہ داری داعش نے قبول کی ہے، جن میں کم از کم 48 افراد ہلاک ہوئے، جس سے ایک روز قبل داعش کے شدت پسند گروپ کا شام ترک سرحد کی آخری پٹے پر قبضہ ختم کیا گیا۔
دھماکوں کا نشانہ حمص اور طرطوس کے سرکاری کنٹرول والے شہر، کُردوں کے زیر کنٹرول حسکہ کا شہر اور دمشق کے مضافات بنے۔

شام میں انسانی حقوق کے خلاف ورزیوں پر نظر رکھنے والے ادارے، جس کا ملک بھر میں نیٹ ورک قائم ہے، کے سربراہ رمی عبد الرحمٰن نے کہا ہے کہ ’’صاف طور پر یہ حملے ایک ہی وقت ہوئے، اور سبھی کا ہدف سکیورٹی چوکیاں تھیں‘‘۔

سب سے مہلک دھماکہ طرطوس میں ہوا، جہاں سرکاری تحویل میں کام کرنے والے ٹیلی ویژن نے اطلاع دی ہے کہ ارزونہ پُل پر دو بم حملے ہوئے، جس میں کم از کم 35 افراد ہلاک جب کہ 43 زخمی ہوئے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پہلا دھماکہ کار بم دھماکے کے نتیجے میں ہوا جب کہ دوسرا ایک خود کش حملہ آور کی کارستانی تھی، جس نے اپنے جسم پر بندھے اسلحے کو بھک سے اڑا دیا، ایسے میں جب لوگ زخمیوں کی مدد کے لیے اکٹھے ہو رہے تھے۔

سنہ 2011 میں بھڑک اٹھنے والا شام کا تنازع اب امریکہ اور روس کی جانب سے مخالف فریق کی مدد کے نتیجے میں پیچیدہ ہو گیا ہے، اس میں 290000 سے زائد افراد ہلاک جب کہ لاکھوں گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔

XS
SM
MD
LG