رسائی کے لنکس

logo-print

شام اور عراق کے آخری سرحدی علاقے پر داعش کا قبضہ


’سیئرین آبزویٹری فار ہیومین رائیٹس‘ کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ تاریخی شہر پالیمرہ پر قبضے کے بعد داعش اب شام کے تقریباً نصف حصے پر قابض ہے۔

شدت پسند تنظیم داعش نے اطلاعات کے مطابق شام کے زیر کنٹرول آخری سرحدی علاقے پر قبضہ کر لیا ہے، شام اور عراق کے درمیان یہ سرحدی علاقہ ایک ’کراسنگ پوائنٹ‘ ہے۔

برطانیہ میں قائم تنظیم ’سیئرین آبزویٹری فار ہیومین رائیٹس‘ کے کارکنوں نے کہا کہ شام کی فورسز آلطنف کے سرحدی علاقے سے نکل گئیں، جس کے بعد جنگجوؤں نے یہاں کا کنٹرول سنبھال لیا۔

’سیئرین آبزویٹری فار ہیومین رائیٹس‘ کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ تاریخی شہر پالیمرہ پر قبضے کے بعد داعش اب شام کے تقریباً نصف حصے پر قابض ہے۔

شدت پسندوں کے پالیمرہ پر قبضے کے بعد یہاں دو ہزار سال قدیم شہر کی باقیات کو سنگین خطرہ لاحق ہے۔

امریکی عہدیدار کہہ چکے ہیں کہ داعش کا شام کے تاریخی شہر پر قبضہ قابل افسوس ہے۔

تاحال ایسی اطلاعات نہیں ملیں کہ داعش کے جنگجوؤں نے ان باقیات کو نقصان پہنچایا ہو تاہم وہ اس سے قبل عراق میں نمرود اور حضر کے آثار قدیم کو نقصان پہنچا چکے ہیں۔

پالیمرہ کا تاریخی شہر اقوام متحدہ کے ادارہ برائے ثقافت، تعلیم و سائنس یعنی "یونیسکو" کی عالمی ورثہ کی فہرست میں شامل ہے اور شام کے حکام کا کہنا ہے کہ یہاں سے پہلے ہی قیمتی نوادرات کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

داعش نے گزشتہ سال شام اور عراق کے مختلف حصوں پر قبضہ کر کے وہاں خلافت کا اعلان کر دیا تھا۔ امریکہ کی قیادت میں قائم اتحادی ممالک اس شدت پسند گروہ کے خلاف فضائی کارروائیاں بھی کرتے رہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG