رسائی کے لنکس

logo-print

ڈان لیکس کیا تھیں؟ نواز شریف درست کہہ رہے تھے، اسحاق ڈار


مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ ڈان لیکس کیا تھیں؟ نواز شریف اس وقت درست کہہ رہے تھے۔ نواز دور میں روزانہ پانچ ارب روپے قرضہ لیا گیا جبکہ موجودہ حکومت روزانہ بیس ارب قرضہ لے رہی ہے۔ مولانا فضل الرحمان حق پر ہیں اس لیے مسلم لیگ ن ان کے ساتھ ہے۔

انھوں نے ان خیالات کا اظہار وائس آف امریکہ کے ساتھ ’فیس بک لائیو‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ حکومت نے نواز شریف کی صحت کے ساتھ مذاق کیا ہے۔ انھیں وقت پر مناسب طبی سہولتیں نہیں دی گئىں۔ جب ان کی صحت بہت زیادہ بگڑ گئى اور خاندان اور پارٹی نے شور مچایا، تب انھیں اسپتال منتقل کیا گیا۔ لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے میں صاف صاف لکھا ہے کہ وہ ملک میں یا بیرون ملک کہیں بھی علاج کروا سکتے ہیں۔ نواز شریف بیرون ملک نہیں جانا چاہتے لیکن انھیں اپنی صحت کو ترجیح دینی چاہیے۔ صحت کا خیال رکھنا اسلامی نقطہ نظر سے بھی فرض ہے۔ علاج کے بعد وہ چاہیں تو بے شک واپس آجائیں۔

سیاسی حالات پر بات کرتے ہوئے اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ نواز حکومت نے تحریک انصاف کے دھرنے میں رکاوٹ نہیں ڈالی تھی۔ انھیں مکافات عمل کا سامنا ہے۔ مولانا فضل الرحمان اس وقت حق پر ہیں جس کی وجہ سے مسلم لیگ ن ان کے ساتھ ہے۔ یہ ناانصافی کی حکومت ہے۔ اس نے مجھ سمیت بارہ رہنماؤں پر قومی میڈیا میں بات کرنے پر پابندی لگا دی ہے جو بنیادی انسانی حقوق کے خلاف ہے۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ ملک میں ہر طرح کا کاروبار بند ہے، معیشت ڈوب رہی ہے، جی ڈی پی گروتھ یعنی معیشت کی شرح نمو خطرناک حد تک کم ہو چکی ہے۔ یہ موجودہ حکومت کی بنیادی معاشی پالیسیوں کی خرابی کی وجہ سے ہے۔ حکومت نے ٹیکس بڑھانے کے دعوے کیے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ٹیکس کلیلشن میں کمی ہوئى ہے۔ مانیٹری پالیسی تباہ کن ہے اور کاروباری طبقہ سب سے زیادہ تکلیف میں ہے۔ موجودہ حکومت نے زراعت اور صنعت کو تباہ کردیا ہے۔ یہ معاشی اور مالیاتی پالیسی کی ناکامی ہے۔ عوام کے لیے مہنگائى میں مسلسل اضافہ ان کی زندگی اجیرن کر رہا ہے۔

بیرونی قرضوں پر بات کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ حکومت نے ملک چلانے کے لیے مسلسل قرض لیا جو نواز دور میں لیے گئے قرض کی نسبت بہت زیادہ ہے۔ ہمارے دور میں لیا گیا قرض مشینری اور صنعتوں کے لیے استعمال ہوا، بجلی کے پیداواری منصوبے لگائے گئے۔ لیکن، موجودہ حکومت نے خسارہ کم کرنے کے نام پر ضروری درآمدات روک کر معیشت کو تباہ کر دیا ہے۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ مسلم لیگ ن کی حکومت نے قوم کے مستقبل کو محفوظ کرنے کے لیے نیشنل ایکشن پلان بنایا تھا۔ جو بات میاں نواز شریف 2016 میں کہتے تھے، اس پر اب عمل کرنا پڑ رہا ہے۔ ڈان لیکس کیا تھی؟ وزیر اعظم نواز شریف کیا کہہ رہے تھے؟ کہ ہم دنیا بھر میں تنہا ہو رہے ہیں۔ ان کی بصیرت 2016 میں درست تھی۔ اگر ان تجاویز پر عمل کیا گیا ہوتا تو پاکستان اس وقت گرے لسٹ میں نہ ہوتا۔ تمام اداروں کو چاہیے کہ مل کر ایف اے ٹی ایف اور نیشنل ایکشن پلان پر عمل کریں۔ ایف اے ٹی ایف کی سفارشات پر عمل کیے بغیر پاکستان کا گرے لسٹ سے باہر آنا ممکن نہیں لگتا۔

وزیر اعظم عمران خان کی ٹویٹس پر سابق وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ وہ قوم سے سچ نہیں بول رہے۔ بیرونی سرمایہ کاری گزشتہ برسوں کی نسبت کم ہو رہی ہے۔ ورلڈ بینک کی حال میں جاری کی گئی ’ایز آف ڈوئنگ بزنس‘، یعنی کاروبار کے لیے آسان ممالک کی فہرست میں پاکستان کی 28 درجے بہتری سابقہ معاشی پالیسوں کا نتیجہ ہے۔ اس کا کریڈٹ موجودہ حکومت غلط لے رہی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG