رسائی کے لنکس

logo-print

لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر ’آئی ایس آئی‘ کے سربراہ مقرر


فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ’آئی ایس پی آر‘ کے بیان کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر آئی ایس آئی کے موجودہ سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ظہیر الاسلام کی ریٹائرمنٹ کے بعد اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔

پاکستانی فوج کے چھ افسران کو میجر جنرل کے عہدے سے ترقی دے کر لیفٹیننٹ جنرل بنا دیا گیا ہے۔ ترقی پانے والے لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر کو ملک کے طاقتور انٹیلی جنس ادارے ’آئی ایس آئی‘ کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔

اس سے قبل رضوان اختر کراچی میں سندھ رینجرز کے سربراہ کے طور پر کام کر رہے تھے۔ جب کہ وہ وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں میں بھی خدمات سر انجام دے چکے ہیں۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ’آئی ایس پی آر‘ کے بیان کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر آئی ایس آئی کے موجودہ سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ظہیر الاسلام کی ریٹائرمنٹ کے بعد اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔

بطور سندھ رینجرز کے سربراہ کے رضوان اختر ملک کے اقتصادی مرکز کراچی میں شدت پسندوں اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیوں کی قیادت کر رہے تھے۔

دفاعی اُمور کے ماہر لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) طلعت مسعود نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ کراچی میں شدت پسندوں اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف رینجرز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو کئی کامیابیاں ملیں اور اس دوران اُن کے بقول رضوان اختر کو حاصل ہونا والا تجربہ اپنی نئی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں اُن کے کام آئے گا۔

’’ان کا ریکارڈ بہت اچھا ہے، اس لحاظ سے میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان میں استحکام آئے اور ملک میں سیاسی بحران کے کم ہونے کا امکان ہے۔‘‘

واضح رہے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور عوامی تحریک کے سربراہ طاہر القادری کی قیادت میں اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے دھرنوں کے باعث پاکستان میں سیاسی صورت حال کشیدہ ہے۔

فوج کی طرف سے متعدد بار یہ بیانات آ چکے ہیں کہ ملک میں جاری سیاسی کشیدگی سے اُس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

اُدھر حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کے سینیئر رہنما راجہ ظفر الحق نے کہا کہ ملک کے طاقتور انٹیلی جنس ادارے کے سربراہ کے لیے لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر نام قواعد و ضوابط کے مطابق وزیراعظم نواز شریف کی منظوری کے بعد سامنے آیا۔

اُنھوں نے کہا کہ فوج کی موجودہ قیادت اور سویلین حکومت کے تعلقات بہت اچھے ہیں

’’میرا اپنا خیال ہے کہ جنرل راحیل شریف صاحب کے آنے کے بعد بہت بہتر تعلقات رہے ہیں اور وہ قائم رہیں گے۔‘‘

لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی پانے والے دیگر پانچ افسران میں حیات الرحمٰن، ہلال حسین، گوہر محمود، نذیر بٹ اور نوید مختار شامل ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ لیفٹیننٹ جنرل حیات الرحمٰن کو کور کمانڈر پشاور، لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار کو کور کمانڈر کراچی، لیفٹیننٹ جنرل ہلال حسین کو کور کمانڈر منگلا، لیفٹیننٹ جنرل گوہر محمود کو کور کمانڈر گوجرانوالہ جب کہ لیفٹیننٹ جنرل نذیر بٹ کو انسپکٹر جنرل کمیونیکیشن اینڈ آئی ٹی مقرر کیا گیا ہے۔

XS
SM
MD
LG