رسائی کے لنکس

راولپنڈی: اسٹیٹ بینک کی عمارت پر 'داعش' کی وال چاکنگ 


فائل فوٹو

ابھی تک پولیس اس بات کا تعین نہیں کر سکی ہے کہ راولپنڈی شہر میں داعش کے نام کی وال چاکنگ کرنے والے کون افراد تھے تاہم پولیس اس معاملے کی تفتیش جاری رکھے ہوئے ہے۔

پولیس نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے جڑواں شہر راولپنڈی میں واقع پاکستان کے مرکزی بینک 'اسٹیٹ بینک' کی ایک عمارت کی دیوار پر شدت پسند تنظیم 'داعش' کی وال چاکنگ کرنے پر نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کر کے معاملے کی تفتیش شروع کر دی ہے۔

یہ وال چاکنگ شہر کے انتہائی سیکورٹی کے حامل علاقے میں کی گئی جہاں ملک کے بعض حساس اداروں کے دفاتر بھی واقع ہیں۔

راولپنڈی سول لائنز پولیس اسٹیشن کے ایک افسر کی مدعیت میں پولیس نے اس معاملے کی ایف آئی آر یعنی ابتدائی رپورٹ درج کی ہے۔

وائس آف امریکہ کو فراہم کردہ 'ایف آئی آر' کی کاپی کے مطابق منگل کی رات کو گشت پر مامور پولیس کے اہلکار وں کی گاڑی جب فردوس روڈ پر واقع اسٹیٹ بینک کے پاس پہنچی تو انہیں بینک کی عقبی دیوار پر نمایاں طور پر لفظ 'آئی ایس آئی ایس' یعنی داعش لکھا ہو انظر آیا جس کے اطلاع انہوں نے اعلیٰ پولیس عہدیداروں کو دی۔ جس کے بعد اس حرکت کا مقدمہ نامعلوم افراد کے خلاف درج کر لیا گیا۔

بتایا گیا ہے کہ ابھی تک پولیس اس بات کا تعین نہیں کر سکی ہے کہ راولپنڈی شہر میں داعش کے نام کی وال چاکنگ کرنے والے کون افراد تھے تاہم پولیس اس معاملے کی تفتیش جاری رکھے ہوئے ہے۔

راولپنڈی میں داعش کے حق میں وال چاکنگ کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ حالیہ مہینوں میں ملک کے کئی علاقوں سے ایسی اطلاعات سامنے آتی رہی رہیں کہ بعض افراد نے کئی مقامات پر داعش کے حق میں نہ صرف نعرے درج کیے بلکہ اس کے پمفلٹ بھی تقسیم کرنے کی کوشش کی۔

واضح رہے کہ رواں سال ستمبر میں شام اور عراق میں سرگرم شدت پسند گروپ کا جھنڈا وفاقی دارالحکومت کی مصروف ترین شاہراہ ایکسپریس ہائی وے پر اقبال ٹاون کے مقام پر ایک پل پر لگا یا گیا تھا جس پر داعش کے حق میں نعرے بھی درج تھے۔

اگرچہ حکومت میں شامل عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ملک میں شدت پسند تنطیم داعش کا کوئی منظم وجود نہیں ہے تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ بعض مقامی شدت پسند تنظیموں سے وابستہ افراد ملک میں داعش کو منظم کرنے کے لیے ایسی کارروائیاں کرتے رہتے ہیں تاہم انہیں ابھی کامیابی حاصل نہیں ہو سکی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG