رسائی کے لنکس

جنرل باجوہ ٹیکس ریٹرنز لیکس؛ صحافی شاہد اسلم کی درخواست ضمانت منظور ، رہائی کا حکم


فائل فوٹو
فائل فوٹو

اسلام آباد کی عدالت نے سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے اہلِ خانہ کے ٹیکس ریکارڈ لیک کرنے کے الزام میں گرفتار صحافی شاہد اسلم کو رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔

وائس آف امریکہ کے نمائندے عاصم علی رانا کے مطابق ڈیٹا لیک کیس میں اسپیشل جج سنٹرل نے صحافی شاہد اسلم کی 50ہزار روپے مچلکوں کے عوض ضمانت بعد از گرفتاری منظور کر لی۔

شاہد اسلم کو جمعے کو وفاقی تفتیشی ادارے (ایف آئی اے) نے لاہور سے گرفتار کیا تھا جس کے بعد عدالت نے ہفتے کو اُنہیں دو روزہ جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے کر دیا تھا۔

ایف آئی اے کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا تھا شاہد اسلم پر الزام ہے کہ اُنہوں نے سابق آرمی چیف جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ کے اہلِ خانہ کے ٹیکس ریکارڈ لیک کر کے انہیں بیرونِ ملک مقیم صحافی احمد نورانی کو بھیجا تھا۔

صحافی شاہد اسلم نے عدالت کو آگاہ کیا تھا کہ وہ کافی عرصے سے ایف آئی اے کے حوالے سے رپورٹنگ کر رہے ہیں اور بطور صحافی وہ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں سے آگاہ ہیں۔ ان کے بقول انہوں نے کوئی غیر قانونی کام نہیں اور نہ ہی سابق آرمی چیف سے متعلق کوئی معلومات کسی کو فراہم کی ہیں۔

احمد نورانی 'فیکٹ فوکس'' نامی ویب سائٹ سے منسلک ہیں اور گزشتہ برس نومبر میں اُنہوں نے اس وقت کےحاضر سروس آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے اہلِ خانہ کے ٹیکس ریٹرنز اور مبینہ طور پر ان کی دولت میں کئی گنااضافے کے بارے میں ایک رپورٹ شائع کی تھی۔

احمد نورانی نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ آرمی چیف کے چھ سالہ دور کے دوران جنرل قمر جاوید باجوہ کے اہلِ خانہ کے اثاثوں میں بے تحاشا اضافہ ہوا۔

پاکستان فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) نے اس رپورٹ کی تردید کی تھی۔ لیکن وفاقی وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) سے یہ خفیہ معلومات لیک کرنے کی تحقیقات کر کے ذمے داروں کے خلاف کارروائی کا اعلان کیا تھا۔

XS
SM
MD
LG