رسائی کے لنکس

logo-print

پاک، افغان چین سہ فریقی مذاکرات میں علاقائی امن و ترقی کی کوششوں پر اتفاق


اسلام آباد میں چین، افغانستان اور پاکستان کے وزرائے خارجہ کا اجلاس کے موقع کی ایک تصویر۔ 7 ستمبر 2019

پاکستان افغانستان اور چین نے افغانستان میں قیام امن اور ترقی کے لئے پانچ نکات پر اتفاق کر لیا ہے اور فیصلہ کیا ہے کہ تینوں ممالک کے درمیان سہ فریقی مذاکرات کا اگلا چوتھا دور بیجنگ میں ہو گا۔ پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ امریکہ طالبان مذاکرات کے اگلے مرحلے میں انٹرا افغان مذاکرات پر بات ہو گی۔

پاکستان افغانستان اور چین کے درمیان سہ فریقی مذاکرات کا تیسرا دور اسلام آباد میں ہوا۔ پاکستانی وفد کی قیادت وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، چینی وفد کی قیادت ان کے وزیر خارجہ وانگ ژی اور افغان وفد کی قیادت افغان وزیر خارجہ صلاح الدین ربانی نے کی۔

سہ فریقی تعاون پر جاری پیش رفت پر مکمل اطمینان

اجلاس کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں تینوں وزرائے خارجہ نے مذاکرات کے تیسرے دور کے انعقاد پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ پاکستان، چین اور افغانستان کے درمیان مذاکرات کا تیسرا دور بہت مفید رہا۔ مذاکرات میں افغان امن عمل اور سیکورٹی تعاون پر بات ہوئی۔ آئندہ سہ فریقی مذاکرات بیجنگ میں کرانے پر اتفاق ہوا ہے۔ چین ہمارا آزمودہ دوست ہے۔ افغان مذاکرات کی کامیابی کے لیے پر عزم ہیں۔ تینوں ممالک کے سفارتی عملے کے درمیان دوستانہ کرکٹ میچز ہوں گے۔

دو طرفہ تعلقات اور رابطوں میں بہتری

وزیرخارجہ نے کہا کہ پاک افغان تعلقات میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ اس سال جون میں صدر اشرف غنی کا دورہ ایک اہم پیشرفت تھی اور ہم اسے آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سال کے شروع میں اسلامی تعاون تنظیم کے اجلاس کے موقع پر بھی صدراشرف غنی اور وزیراعظم عمران خان کے درمیان مثبت رابطہ ہوا تھا۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ وہ بے حد خوش ہیں کہ افغان امن عمل میں پیش رفت ہو رہی ہے اور یہ آگے بڑھے گا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ وہ اگلے مرحلے میں افغانستان اور پورے خطے میں پائیدار امن کے لیے بین الافغان مذاکرات کی جانب پیش رفت کریں گے۔

وزیرخارجہ نے طورخم سرحد کو 24 گھنٹے کھلا رکھنے کی افتتاحی تقریب میں شرکت کے لیے افغان صدر اشرف غنی کو دوبارہ دعوت دی۔

چین کے وزیر خارجہ وانگ ژی

چینی وزیر خارجہ نے کہا کہ امن و امان کے لیے علاقائی رابطوں کا فروغ ضروری ہے۔ چین اور پاکستان پڑوسی ملک افغانستان میں امن مذاکرات کے لیے پرامید ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ نے ہمارے حصے میں کئی تنازعات چھوڑے ہیں۔ یہ تنازعات ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ افغان امن مذاکرات ایک خوش آئند اقدام ہے۔

طالبان اور افغان حکومت کے مذاکرات

چینی وزیر خارجہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ خطے میں بدامنی اور دہشت گردی کے خطرات ختم نہیں ہوئے۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات امن و استحکام کے لیے اہم ہیں۔ افغانستان میں صورت حال اس وقت نازک دور میں ہے۔ چین اور پاکستان، افغان طالبان اور افغان حکومت کے درمیان مذاکرات کے خواہاں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امریکی افواج کے انخلا کے بعد افغانستان میں امن کی بحالی ضروری ہے۔ امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے بعد بین الافغان مذاکرات ہوں گے۔ پاکستان اور چین بین الافغان مذاکرات کو کامیاب بنانے کے لیے کردار ادا کرے گا۔

انسداد دہشت گردی اور دیگر شعبوں میں تعاون

انہوں نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات کو خطے میں امن کے لیے ضروری قرار دیتے ہوئے کہا کہ تینوں ممالک میں ثقافتی تبادلوں، سفارتی تربیت، دیگر شعبوں میں تعاون پر اتفاق ہوا ہے۔ انسداد دہشت گردی اور سیکورٹی تعاون، اینٹی نارکوٹس کی روک تھام کی کوششوں میں تعاون پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔

افغان وزیر خارجہ صلاح الدین ربانی

افغان وزیر خارجہ صلاح الدین ربانی نے کہا کہ خطے کے امن کے لیے پاک افغان ڈائیلاگ کی حمایت کرتے ہیں۔ امن کے لیے پاکستان اور چین کے وزرائےخارجہ کی کوششوں کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ امید کرتے ہیں امن و استحکام کے لیے سہ فریقی مذاکرات جاری رہیں گے۔

طالبان خلوص کا عملی مظاہرہ کریں

ان کا کہنا تھا کہ طالبان کو امن مذاکرات میں خلوص کا عملی مظاہرہ کرنا ہو گا۔ سہ فریقی مذاکرات کے دوران اس بات پر اتفاق ہوا ہے کہ افغان مسئلے کا حل افغان عوام ہی نکالیں گے۔

سہ فریقی مذاکرات کی تاریخ

چین، افغانستان اور پاکستان کے وزرائے خارجہ مذاکرات کا آغاز 2017 میں ہوا تھا جس کا مقصد باہمی مفاد کے امور بالخصوص معاشی ترقی اور امن و سلامتی پر تینوں ممالک میں تعاون کو فروغ دینا تھا۔

مذاکرات کا اولین اجلاس 2017 میں بیجنگ میں جب کہ دوسرا اجلاس دسمبر 2018 میں کابل میں ہوا تھا۔

افغانستان میں امن کے قیام اور پاکستان اور افغانستان کے درمیان عدم اعتماد کی فضا ختم کرنے کے لیے جون میں پاکستان کے پرفضا مقام مری بھوربن میں پہلی افغان امن کانفرنس کا انعقاد کیا گیا تھا جس میں پاک افغان تعلقات سے متعلق پراپیگنڈا یا منفی تاثر پھیلانے کے حوالے سے معاملات دیکھے گئے تھے۔

چین کی افغانستان میں دلچسپی

چین پاکستان کا قریبی اتحادی ہے جس نے گزشتہ چند برسوں کے دوران افغانستان کے ساتھ بھی اپنے معاشی اور سیاسی تعلقات کو فروغ دیا ہے۔

اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے چین جنوبی ایشیا کے ان دونوں ہمسایہ ملکوں کے درمیان چپقلش کو دور کرنے کا خواہش مند ہے۔

چینی حکام کا کہنا ہے کہ علاقائی استحکام کے نتیجے میں چین مخالف شدت پسندی کی حوصلہ شکنی ہو گی جو چین کے علاقے مغربی سنکیانگ میں چین کی حکومت کے لیے مشکلات پیدا کر رہی ہے۔

سنکیانگ کی سرحدیں افغانستان اور پاکستان سے ملتی ہیں۔ یہ ایک مذاکرات ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب افغانستان میں قیام امن کے لیے طالبان اور امریکہ کے درمیان مذاکرات اور معاہدہ آخری مراحل میں ہے۔ا

امریکہ طالبان مذاکرات اور کشمیر کی صورت حال

طالبان کی طرف سے مذاکرات میں 90 فیصد تک کامیابی کا دعویٰ کیا جا رہا ہے اور امریکی اڈےخالی کرنے کی بات ہو رہی ہے، جب کہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں آرٹیکل 370 اور 35 اے کی منسوخی کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان حالات انتہائی کشیدہ ہیں اور لائن آف کنٹرول پر دونوں ممالک کے درمیان کئی دنوں سے جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG