رسائی کے لنکس

logo-print

ہزارہ برادری کے تحفظ کے لیے ٹھوس و فوری اقدام کا مطالبہ


ہزاراہ برادری کی خواتین احتجاج کے دوران بھوک ہڑتال کر رہی ہیں۔

کوئٹہ میں شیعہ ہزارہ برادری کے افراد کو ہدف بنا کر قتل کرنے کی وارداتوں میں حالیہ دنوں میں ایک بار پھر اضافہ دیکھا گیا ہے جس کے خلاف اس برادری کے لوگ ایک بار پھر صدائے احتجاج بلند کر رہے ہیں۔

ہزارہ برادری کے لوگ صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں تو احتجاج کر ہی رہے ہیں لیکن پیر کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بھی ہزارہ برادری کے نمائندوں نے ایک احتجاجی مظاہرہ کیا جس میں طلبا اور سول سوسائٹی کے سرگرم کارکنان بھی شریک ہوئے۔

مظاہرین نے ہاتھوں میں کتبے اٹھا رکھے تھے جن پر ہزارہ برادری کو درپیش مشکلات کے خلاف نعرے درج تھے جب کہ شرکا اس برادری کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے آواز بلند کر رہے تھے۔

مظاہرے کا اہتمام کرنے والی فاطمہ عاطف کا تعلق بھی ہزارہ برادری سے ہے اور وہ انسانی حقوق کی ایک سرگرم کارکن ہیں۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ لوگ کوئٹہ میں احتجاج کرنے والوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے جمع ہوئے ہیں اور فوج اور حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ عدم تحفظ کی شکار اس برادری کی ہلاکتوں میں ملوث عناصر کو کیفر کردار تک پہنچانے کے ساتھ ساتھ ان کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ٹھوس اقدام کیے جائیں۔

"اگر فوج اس شہر میں چھاؤنی بناتی ہے جہاں کوئی پرندہ بھی پر نہیں مار سکتا تو پھر اس چھوٹی سی برادری کو تحفظ کیوں نہیں دیا جا سکتا۔"

مظاہرے میں شریک معروف سماجی کارکن ثمر من اللہ کہتی ہیں کہ رنگ و نسل کی تفریق سے بالاتر ہو کر پورے معاشرے کو جبر اور دہشت کے خلاف آواز بلند کرنا ہو گی۔

"ایسا کیوں ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ پاکستانی ہوتے ہوئے ہم اپنی آسانی دیکھتے ہیں اور کسی اور کے لیے آواز بلند نہیں کرتے۔"

دریں اثنا وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال کا کہنا ہے کہ وہ کوئٹہ جا کر ہزارہ برادری کے افراد سے ملاقات کریں گے اور ان کے تحفظات کو دور کرنے کے لیے وفاقی حکومت ہر ممکن کوشش کرے گی۔

صوبائی حکومت کا موقف ہے کہ ہزارہ برادری کے تحفظ کے لیے کیے جانے والے اقدام کے باعث ماضی کی نسبت ایسے پرتشدد واقعات میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG