رسائی کے لنکس

حکمِ امتناع خارج، حکومت کو چینی انکوائری رپورٹ پر کارروائی کی اجازت


(فائل فوٹو)

اسلام آباد ہائی کورٹ نے چینی انکوائری رپورٹ پر جاری کردہ حکم امتناع ختم کرتے ہوئے حکومت کو شوگر ملز کے خلاف کارروائی کی اجازت دے دی ہے۔

ہفتے کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے شوگر ملز ایسوسی ایشن کی درخواست نمٹا دی جس کے بعد حکومت کو شوگر انکوئری کمیشن کی روشنی میں کارروائی جاری رکھنے کی اجازت دی گئی ہے۔

عدالت نے حکم دیا کہ ایسی بیان بازی نہ کی جائے جس سے شفاف ٹرائل کا حق متاثر ہو۔ اس سے قبل اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے چینی انکوائری کمیشن کے خلاف شوگر ملز کی درخواست پر سماعت کی جس میں اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے حکومتی موقف پر دلائل دیے۔

اٹارنی جنرل کے دلائل

اٹارنی جنرل خالد جاوید نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کے پاس دو راستے تھے یا آنکھیں بند کر لے یا شوگر بحران پر کارروائی کرے۔ حکومت نے سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلوں اور اقدامات کی روشنی میں کام کیا۔

اُنہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے جعلی اکاؤنٹس جیسے مقدمات پر جے آئی ٹیز بنائیں۔ وائٹ کالر کرائم کی تفتیش کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیمیں پہلے بھی بنائی جاتی رہیں۔ شوگر انکوائری کمیشن میں بھی اسی طرح مختلف اداروں کے لوگ شامل تھے۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ کہنا غلط ہو گا کہ انکوائری کمیشن سیاسی مخالفین سے انتقام کے لیے بنایا گیا۔ انکوائری تو حکومت کے اپنے مضبوط اتحادیوں اور دوستوں کے خلاف بھی ہو رہی ہے۔ اپنے دوستوں اور اتحادیوں کے خلاف کارروائی کے لیے حوصلہ چاہیے ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کمیشن نے گنے کی کل پیداوار کا پتا لگانے کا فیصلہ کیا۔ ملیں کاشت کاروں سے گنا کتنا اور کس قیمت پر خریدتی ہیں یہ سوال بھی تھا۔ گنے کی خرید کے بعد کرشنگ میں کتنا گنا جاتا ہے یہ بھی تعین کرنا تھا۔

اُنہوں نے کہا چینی کی قیمت بڑھنے سے حکومت نہیں بلکہ عوام کا نقصان ہوتا ہے۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ حکومت نے معاملہ قومی احتساب بیورو (نیب)، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اور سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کو بھجوایا ہے تاکہ وہ خود ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کریں۔

چینی انکوائری کمیشن میں تحریک انصاف کے اہم رہنما جہانگیر ترین کا بھی نام آیا تھا۔ (فائل فوٹو)
چینی انکوائری کمیشن میں تحریک انصاف کے اہم رہنما جہانگیر ترین کا بھی نام آیا تھا۔ (فائل فوٹو)

شوگر ملز ایسویسی ایشن کا جواب الجواب

شوگر ملز ایسوسی ایشن کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے جواب الجواب دلائل میں کرکٹر سلیم ملک کا حوالہ دیا اور کہا کہ سلیم ملک پر الزام آئی سی سی کے کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی کا تھا۔ سلیم ملک نے پاکستان میں کسی قانون کی خلاف ورزی نہیں کی تھی۔ سلیم ملک پر جو الزام تھا اس سے متعلق پاکستان میں کوئی قانون موجود نہیں تھا۔

سلمان اکرم راجہ نے دلائل دیے کہ ملک میں کوئی قانون موجود نہ ہونے کی صورت میں انکوائری کمیشن کیسے بنایا گیا؟ چینی کے معاملے پر تمام متعلقہ قوانین ملک میں موجود ہیں، حکومتی انکوائری کمیشن کی ضرورت نہیں تھی۔

سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ حکومت کی جانب سے شوگر ملز مالکان کو مافیا تک کہا جا رہا ہے جو لوگ پہلے سے اپنی سوچ کا اظہار کر چکے ہیں انہیں کارروائی جاری رکھنے کی اجازت کیسے دی جا سکتی ہے؟

مخدوم علی خان نے کہا کہ رپورٹ میں ہمارے بارے میں "دن دیہاڑے ڈکیتی" جیسے سخت الفاظ لکھے گئے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ہم چینی رپورٹ میں سخت الفاظ کو حذف کردیتے ہیں۔

شوگر ملز مالکان نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں حکومت کی طرف سے چینی بحران سے متعلق کمیشن کی انکوائری رپورٹ کے خلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔

شوگر ملز مالکان نے الزام عائد کیا تھا کہ کمیشن نے متعصبانہ کارروائی کرتے ہوئے شوگر ملز مالکان کو مافیا قرار دیا ہے لہذا اس رپورٹ پر کارروائی کو روکا جائے۔

11 جون کو عدالت نے اس حوالے سے مشروط حکم امتناع جاری کیا تھا اور شوگر ملز مالکان کو کہا تھا کہ وہ آئندہ تاریخ تک چینی 70 روپے کلو فروخت کریں۔ لیکن اس عدالتی حکم پر عمل درآمد نہ ہوسکا اور چینی بدستور 85 روپے کلو فروخت کی جارہی تھی۔

انکوائری کمیشن کی رپورٹ کیا تھی؟

وزیرِ اعظم کے معاون خصوصی شہزاد اکبر نے 21 مئی کو پریس کانفرنس میں جہانگیر ترین سمیت مختلف سیاست دانوں کے ملوث ہونے سے متعلق بتایا تھا۔

اُن کا کہنا تھا کہ شوگر ملز نے کسانوں سے سپورٹ پرائس سے کم دام پر اور بغیر تصدیق شدہ پرچیوں پر گنا خریدا۔ کسانوں کے ساتھ مل مالکان نان آفیشل بینکنگ بھی کرتے رہے۔ 2019 میں گنا 140 روپے سے بھی کم میں خریدا گیا۔ شوگر ملز نے 2017 اور 2018 میں چینی کی 13 روپے زیادہ قیمت مقرر کی۔ 2017 اور 2018 میں مل مالکان نے 51 روپے چینی کی لاگت بتائی حالانکہ کمیشن نے تعین کیا کہ یہ لاگت 38 روپے ہے۔

ان کے بقول اسی طرح 2018 اور 2019 میں ساڑھے بارہ روپے کا فرق پایا گیا۔ 2019 اور 2020 میں 16 روپے کا فرق پایا گیا۔ شوگر ملز نے 2018 اور 2019 میں 12 اور 2019 اور 2020 میں 14 روپے زیادہ قیمت مقرر کی۔ ساری شوگر ملز نے دو کھاتے بنائے ہوئے ہیں۔ ایک کھاتا حکومت کو دوسرا سیٹھ کو دکھایا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ چینی کی بے نامی فروخت بھی دکھا کر ٹیکس چوری کی گئی۔ شوگر ملز نے غیر قانونی طور پر کرشنگ یونٹس میں اضافہ کیا۔ چینی کی قیمت میں ایک روپے اضافہ کر کے پانچ ارب 20کروڑ روپے منافع کمایا گیا۔

شہزاد اکبر نے بتایا کہ پاکستان میں تقریباً 25 فی صد گنا رپورٹ نہیں کیا جاتا۔ جس سے اس پر ٹیکس بھی نہیں دیا جاتا۔ پانچ برس میں 88 شوگر ملز کو 29 ارب کی سبسڈی دی گئی۔ ان شوگر ملز نے 22 ارب روپے کا انکم ٹیکس دیا اور 12 ارب کے انکم ٹیکس ریفنڈز واپس لیے یوں صرف 10 ارب روپے انکم ٹیکس دیا گیا۔

شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت نے اومنی گروپ کو سبسڈی دے کر فائدہ پہنچایا۔ شہباز شریف فیملی کی شوگر ملز میں ڈبل رپورٹنگ کے شواہد ملے ہیں۔ اسی طرح العربیہ میں بغیر تصدیق شدہ پرچی کا رواج بہت ملا اور اس نے کسانوں کو 40 کروڑ روپے کم دیے۔ جے ڈی ڈبلیو گروپ کی شوگر ملز کارپوریٹ فراڈ میں ملوث نکلی ہیں۔ جہانگیر ترین گروپ کی شوگر ملز اوورانوائسنگ اور ڈبل بلنگ میں ملوث ہیں۔

XS
SM
MD
LG