رسائی کے لنکس

logo-print

اسلام آباد ہائی کورٹ کا نواز شریف کو 10 ستمبر تک حاضر ہونے کا حکم


سابق وزیر اعظم نواز شریف (فائل فوٹو)

اسلام آباد ہائی کورٹ نے العزیزیہ ریفرنس کی سماعت کے دوران سابق وزیراعظم نواز شریف کو عدالت کے سامنے 10 ستمبر تک سرنڈر ہونے کا حکم دیا ہے۔ سماعت کے دوران عدالت کو بتایا گیا کہ نواز شریف کی ضمانت میں توسیع کی درخواست پنجاب حکومت نے مسترد کر دی ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں میں تقریباً 22 ماہ بعد منگل کو العزیزیہ اسٹیل مل ریفرنس کی سماعت ہوئی جس میں سابق وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز اپنے شوہر کیپٹن (ر) محمد صفدر کے ساتھ عدالت میں پیش ہوئیں۔

مریم نواز نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ احتساب سب کے لیے ہونا چاہیے۔ چاہے وہ نواز شریف ہو، قاضی فائز عیسیٰ ہو یا پھر جنرل عاصم سلیم باجوہ، ہر ایک کا احتساب برابری کی سطح پر ہونا چاہیے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے ایون فیلڈ، فلیگ شپ اور العزیزیہ ریفرنسز پر احتساب عدالتوں کے فیصلوں کے خلاف نواز شریف، مریم نواز، کیپٹن ریٹائرڈ صفدر اور نیب کی نظر ثانی درخواستوں پر سماعت کی۔

نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث، سینیٹر پرویز رشید، احسن اقبال، مصدق ملک اور راجہ ظفرالحق سمیت دیگر پارٹی رہنما بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے۔

سماعت کے دوران عدالت نے سابق وزیراعظم نواز شریف کو عدالت کے سامنے سرنڈر کرنے کا حکم دیتے ہوئے ان کے وکیل خواجہ حارث سے کہا کہ آپ کو ایک موقع دے رہے ہیں کہ آئندہ سماعت سے قبل سرنڈر کریں۔

احتساب سب کے لیے ہونا چاہیے: مریم نواز
please wait

No media source currently available

0:00 0:00:53 0:00

جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ نواز شریف ہر صورت میں عدالت کے سامنے پیش ہوں۔ اگر اُنہیں ایئر پورٹ پر گرفتاری کا خدشہ ہے تو بتا دیں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے مریم نواز کو آئندہ سماعت پر عدالت آنے سے بھی روک دیا۔ جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ مریم نواز کے آنے سے سڑکیں بلاک ہو جاتی ہیں، لہذا ابھی انہیں آنے کی ضرورت نہیں۔

سماعت کے دوران نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ ایون فیلڈ ریفرنس میں نواز شریف کی میرٹ پر ضمانت منظور ہوئی۔ نواز شریف علاج کے لیے بیرون ملک گئے۔ واپس نہ آنے کی وجوہات درخواست میں لکھی ہیں۔

عدالت نے سوال کیا کہ کیا اس وقت نواز شریف ضمانت پر ہیں یا نہیں؟ جس خواجہ حارث نے بتایا کہ پنجاب حکومت نے نواز شریف کی درخواست ضمانت مسترد کر دی ہے۔

عدالت نے سوال کیا کہ کیا ضمانت ختم ہونے کے بعد نواز شریف کو عدالت میں سرنڈر نہیں کرنا چاہیے تھا؟ جس پر خواجہ حارث نے کہا کہ نواز شریف کا کیس منفرد ہے۔ عدالت کو سرنڈر نہ کرنے پر تفصیلی آگاہ کروں گا۔

خواجہ حارث نے دلائل دیے کہ نواز شریف کو جو بیماریاں تھیں، اس کا علاج پاکستان میں نہیں ہے۔ نواز شریف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے نکالنے کے لیے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔ پنجاب حکومت نے میڈیکل بورڈ تشکیل دیا، جس نے نواز شریف کی بیماری کا جائزہ لیا۔ نواز شریف اور شہباز شریف دونوں نے صحت یابی پر وطن واپسی کی ضمانت دی تھی۔

عدالت نے استفسار کیا کہ اگر لاہور ہائی کورٹ نے نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دیا تو کیا العزیزیہ کی سزا ختم ہو گئی؟ اسلام آباد ہائی کورٹ نے العزیزیہ کی سزا مختصر مدت کے لیے معطل کی۔ کیا لاہور ہائی کورٹ کے حکم کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ کے آرڈر کو سپرسیڈ کیا جاسکتا ہے؟ جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ کا حکم صرف ای سی ایل سے نام نکالنے کا تھا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں 22 ماہ بعد العزیزیہ اسٹیل مل کیس کی سماعت ہوئی تھی۔
اسلام آباد ہائی کورٹ میں 22 ماہ بعد العزیزیہ اسٹیل مل کیس کی سماعت ہوئی تھی۔

خواجہ حارث نے کہا کہ نواز شریف کی صحت کو وفاقی حکومت نے ہائی کمشن کے ذریعے چیک کرنا تھا۔ اس پر ڈپٹی اٹارنی جنرل ارشد کیانی نے کہا کہ مجھے اس بارے میں کوئی ہدایات نہیں ملیں۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ کیا پاکستانی ہائی کمشن نے نوازشریف کے حوالے سے رپورٹ لی۔ پنجاب حکومت نے نواز شریف کی ضمانت مسترد کر دی۔ اگر وفاقی حکومت کا بھی یہی موقف ہو تو پھر نواز شریف کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہو گی۔

خواجہ حارث نے کہا کہ تسلیم کرتا ہوں کہ نواز شریف کے پاس اس وقت کوئی ضمانت نہیں۔ نواز شریف کا علاج جاری ہے۔ جب علاج مکمل ہو گا، وہ واپس آئیں گے۔

جسٹس محسن نے کہا کہ نواز شریف کا علاج ہو رہا ہے یا نہیں، ریکارڈ پر ایسی کوئی دستاویز نہیں۔

خواجہ حارث نے کہا کہ نواز شریف جان بوجھ کر مفرور ہیں یا نہیں، اس کا جائزہ وفاقی حکومت لے سکتی ہے۔ وفاقی حکومت نے نواز شریف کی صحت کا جائزہ لینے کے لیے کوئی اقدام نہیں کیا۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے خواجہ حارث سے کہا کہ آپ عدالت کو مطمئن کریں کہ نواز شریف عدالت سے فرار نہیں ہوئے۔ نواز شریف کو عدالت میں پیش ہونا پڑے گا تب اپیل آگے چلے گی۔

عدالت نے 10 ستمبر کو وفاقی حکومت سے بھی رپورٹ طلب کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت بتائے کہ شہباز شریف کے بیان حلفی کی روشنی میں اب تک کیا کارروائی کی گئی؟ کیا وفاقی حکومت نے نواز شریف کی صحت سے متعلق اپنے طور پر تصدیق کی؟

جنرل عاصم سلیم باجوہ قانون کا سامنا کریں: مریم نواز

سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ اگر نواز شریف جیلیں بھگت سکتے ہیں، ان کی بیٹی ڈیتھ سیل میں رہ سکتی ہے اور عدالت میں پیش ہو سکتی ہے۔ تو پھر چاہے وہ نواز شریف ہو، مریم نواز ہو، عاصم سلیم باجوہ ہو، میر شکیل الرحمن، قاضی فائز عیسیٰ یا سرینا عیسیٰ ہو، سب عدالتوں کے سامنے پیش ہو سکتے ہیں۔ قانون کے سامنے سب برابر ہیں۔

لیفٹننٹ جنرل (ر) جنرل عاصم باجوہ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ انہیں چاہیے کہ وہ اپنی پوزیشن کلئیر کریں۔ اگر ان پر الزامات لگتے ہیں اور دستاویزی ثبوت سامنے آتے ہیں تو انہیں کلیئر کرنا چاہیے اور قانون کا سامنا کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان کہا کرتے تھے کہ نواز شریف کے باہر جانے سے میرا احتساب کا بیانیہ کمزور ہو گیا، پھر ضمانتوں پر بھی یہی کہا، آج عاصم سلیم باجوہ پر الزامات لگے، تو ان کے احتساب کے بیانیے کے مطابق کیوں جواب نہیں دیا جا رہا۔

انہوں نے کہا کہ نہ یہ سازش ہے، نہ سی پیک کے خلاف سازش ہے، یہ انفرادی شخصیت پر الزام لگے ہیں۔ نواز شریف کو ایک اقامہ پر باہر نکال دیا گیا۔ اگر ایک شخص چلا جائے گا تو اس سے سی پیک کو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

صحافیوں کو دھمکیاں دینے کے سوال پر انہوں نے کہا کہ احمد نورانی کو دھمکیاں نہیں دینی چاہیئں، انہیں جواب دینا چاہیے۔

خیال رہے کہ افواج پاکستان کے سابق ترجمان لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ سے متعلق صحافی احمد نورانی نے ایک ویب سائٹ پر رپورٹ شائع کی تھی۔ جس میں کہا گیا تھا کہ عاصم سلیم باجوہ کی فوج میں اہم عہدوں پر تعیناتی کے دوران اُن کی اہلیہ اور بچوں نے بیرون ملک اثاثے بنائے۔

تجزیہ کار رسول بخش رئیس کہتے ہیں کہ مریم نواز کا بیانیہ اب سخت ہوتا جا رہا ہے، تو اس حوالے سے ان سے سوال کیا جانا چاہیے کہ وہ اب تک خاموش کیوں تھیں؟

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے رسول بخش رئیس کا کہنا تھا کہ "کہا جاتا ہے کہ ان کی اسٹیبلشمنٹ سے کوئی مفاہمت ہو رہی تھی، میرے نزدیک یہ سب ایسی قیاس آرائیاں ہیں جن سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ لیکن میرے خیال میں انہیں کوئی فائدہ حاصل نہیں ہو گا۔ ان کے خلاف کیسز ہیں اور انہیں ان کیسز میں عدالتوں میں پیش ہونا پڑے گا۔"

مریم نواز کی طرف سے جنرل عاصم باجوہ پر عائد الزامات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ یہ بات درست ہے کہ ان پر الزامات عائد کیے گئے ہیں اور انہیں ان کا جواب دینا چاہیے۔

رسول بخش رئیس کے مطابق خاموشی کسی مسئلے کا حل نہیں ہے اور ایسے الزامات پر خاموش نہیں رہنا چاہیے اور تمام معاملات پر انہیں وضاحت کرنی چاہیے۔

ایون فیلڈ،فلیگ شپ اورالعزیزیہ ریفرنس ہے کیا؟

احتساب عدالت نے ایون فیلڈ ریفرنس میں سابق وزیر اعظم نواز شریف، ان کی بیٹی مریم اور ان کے داماد کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کو جیل، قید اور جرمانہ کی سزا سنائی تھی۔ سزا کے خلاف انہوں نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا، جس نے 2018 میں ان سزاؤں کو کالعدم قرار دے دیا، جس کے بعد نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن(ر) صفدر جیل سے رہا ہو گئے تھے۔

احتساب عدالت نے العزیزیہ ریفرنس میں نوازشریف کو سات سال قید، 10 سال کے لیے کسی بھی عوامی عہدے پر فائز ہونے پر پابندی، ان کے نام تمام جائیداد ضبط کرنے اور تقریباً پونے چار ارب روپے کا جرمانہ عائد کیا تھا۔

بعد ازاں اسلام آباد ہائی کورٹ نے نوازشریف کی طبی بنیادوں پر ضمانت کی درخواست پر فیصلہ جاری کرتے ہوئے ان کی سزا آٹھ ہفتوں کے لیے معطل کر دی تھی۔

احتساب عدالت نے فلیگ شپ ریفرنس میں نواز شریف کو بری کر دیا تھا جس کے خلاف نیب نے اپیل دائر کر رکھی ہے۔

حکومتی مؤقف

مریم نواز شریف کی پیشی اور میڈیا سے گفت گو پر حکومتی شخصیات کے بیانات سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔

وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے ٹوئٹ کیا کہ نواز شریف کے وکلا کی طرف سے جمع کرائی گئی میڈیکل رپورٹ خود ثبوت ہے کہ ملزم بالکل صحت مند ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ علاج شروع نہ ہونے کی ذمہ داری کرونا پر ڈال دی گئی ہے۔ جب کرونا دُنیا سے نیست و نابود ہو گا تو پھر علاج شروع ہو گا۔ یہ کیسی عجیب منطق ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG