رسائی کے لنکس

logo-print

سڑک نہ کھولنے پر آئی ایس آئی چیف عدالت طلب


فائل فوٹو

عدالت نے ڈی جی آئی ایس آئی اور سیکریٹری دفاع کو بدھ کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے قرار دیا کہ کیس کی سماعت اوپن کورٹ میں ہی ہوگی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے ملک کی خفیہ ایجنسی 'آئی ایس آئی' کے صدر دفتر متصل سڑک عوام کے لیے نہ کھولنے پر آئی ایس آئی کے سربراہ اور سیکریٹری دفاع کو بدھ کو عدالت طلب کرلیا ہے۔

جمعے کو شہر کی مختلف سڑکوں کو سکیورٹی وجوہات کی بنا پر بند کرنے سے متعلق کیس کی سماعت شروع ہوئی تو اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے استفسار کیا کہ آبپارہ روڈ اب تک کیوں نہیں کھلا؟

خیال رہے کہ آبپارہ کے قریب خیابانِ سہروردی روڈ پر پاکستان کی خفیہ ایجنسی 'آئی ایس آئی' کا صدر دفتر واقع ہے۔ اس روڈ کو آبپارہ روڈ بھی کہا جاتا ہے۔

سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دورِ حکومت میں اس شاہراہ کے دو کلومیٹر طویل حصے کو سکیورٹی خدشات کی بنیاد پر بند کردیا گیا تھا اور اس حصے سے ٹریفک کو متبادل راستوں سے گزارا جاتا ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے گزشتہ سماعت پر حکام کو یہ سڑک ایک ہفتے میں کھولنے کا حکم دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ تاثر ختم ہونا چاہیے کہ سکیورٹی اداروں قانون پر عمل نہیں کرتے۔

سماعت کے دوران ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت سے استدعا کی کہ یہ معاملہ حساس نوعیت کا ہے جس کی اوپن کورٹ میں سماعت نہ کی جائے۔

اس پر جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ ہمیں سب پتا ہے۔ آبپارہ روڈ ہر صورت کھلے گی۔ جو مرضی کر لیں قانون پر عمل ہو کر رہے گا۔ آپ لکھ کر دیں کہ پیر کو شیڈول دیں گے کہ کب سڑک کھلے گی۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل نے جب عدالت کو آگاہ کیا کہ ہمارے اختیار میں نہیں ہے کہ ہم شیڈول دے سکیں تو جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے استفسار کیا کہ آپ کے اختیار میں نہیں تو آپ پیش کیوں ہوئے؟ آپ کے اختیار میں نہیں تو ڈی جی آئی ایس آئی اور سیکریٹری دفاع کو بلا لیتے ہیں۔

جج نے کہا کہ وہ آئیں انہیں چیمبر میں چائے بھی پلائیں گے۔ اسی عدالت میں آپ کا ایک اور کمانڈو بھی پیش ہوچکا ہے۔ اسے کسی نے کچھ نہیں کہا۔

عدالت نے ڈی جی آئی ایس آئی اور سیکریٹری دفاع کو بدھ کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے قرار دیا کہ کیس کی سماعت اوپن کورٹ میں ہی ہوگی۔

دارالحکومت کی کئی سڑکیں تاحال سکیورٹی خدشات کی بنیاد پر عوام کے لیے بند ہیں۔
دارالحکومت کی کئی سڑکیں تاحال سکیورٹی خدشات کی بنیاد پر عوام کے لیے بند ہیں۔

اسلام آباد میں واقع ٹی وی چینل کے دفاتر رہائشی علاقوں سے کمرشل ایریا میں منتقل کرنے سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران معزز جج نے ٹی وی چینل کے نمائندوں کی مزید وقت دینے کی استدعا منظور کرلی اور قرار دیا کہ یکم اگست تک ٹی وی چینلز رہائشی علاقوں سے کمرشل ایریا میں منتقل کریں۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل نے شکوہ کیا کہ آپ نے میڈیا کو وقت دے دیا ہمیں بھی دیں۔ اس پر فاضل جج نے ریمارکس دیے کہ میڈیا والے حلف نامہ دے رہے ہیں، آپ بھی دے دیں۔

بعد ازاں ٹی وی چینلز کے دفاتر کی منتقلی سے متعلق کیس کی سماعت 4 جولائی تک ملتوی کردی گئی۔

اسلام آباد میں ماضی میں دہشت گردی کے خدشے کے پیشِ نظر بہت سے اہم مقامات اور سڑکیں سیمنٹ کے بلاک رکھ کر مستقل یا جزوی طور پر بند کردیے گئے تھے۔

لیکن دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں کمی آنے کے باوجود بہت سی اہم شاہراہیں آج تک بند ہیں۔

اس بارے میں اسلام آباد ہائیکورٹ میں جاری کیس کے دوران عدالت کی ہدایت پر کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے ایک فائیو اسٹار ہوٹل کے سامنے واقع شاہراہ سمیت کئی اہم سڑکیں اور مقامات کھلوائے ہیں لیکن اب بھی شہر کی بہت سی اہم سڑکیں بند ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG