رسائی کے لنکس

logo-print

دو سماجی کارکنوں کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے لیے درخواستیں


ان دونوں سماجی کارکنوں کی طرف سے بھی مولانا عبدالعزیز کے خلاف منافرت پھیلانے اور اشتعال انگیزی کو ہوا دینے کے الزامات کے تحت پولیس مقدمات درج کروائے گئے تھے

اسلام آباد کی لال مسجد اور اس سے وابستہ معاملات ایک بار پھر خبروں میں جگہ بنا رہے ہیں اور اب تازہ خبر یہ سامنے آئی ہے کہ لال مسجد اور شہدا فاؤنڈیشن نے سول سوسائٹی کے دو سرکردہ کارکنوں کے خلاف منافرت پھیلانے کے الزام میں قانونی کارروائی کے لیے درخواست جمع کروائی ہے۔

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ سول سوسائٹی کے سرگرم کارکنان جبران ناصر اور خرم ذکی نے اپنے اپنے وڈیو پیغامات میں لال مسجد، جامعہ حفصہ، مولانا عبدالعزیز اور اہلسنت والجماعت (دیوبند) کے خلاف منافرت پھیلانے کی مبینہ کوشش کی ہے۔

درخواست میں کہا گیا کہ خرم ذکی نے اپنے پیغام میں نفرت انگیز تقریر کے ساتھ ساتھ سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دیں اور یہ کہا کہ "اگر ریاستی اداروں نے مولانا عزیز کے خلاف کارروائی کرنے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا تو ہم ان کے خلاف کارروائی کریں گے۔"

جبران کے خلاف درخواست میں شکایت کی گئی کہ انھوں نے مبینہ طور پر اہلسنت والجماعت (دیوبند) کے خلاف تشدد پھیلایا اور اس کے مرکزی صدر علامہ اورنگزیب فاروقی کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں۔

درخواست میں ان خدشات کا اظہار کیا گیا کہ جبران اور خرم کے ان بیانات کے سبب مولانا عبدالعزیز یا علامہ فاروقی کو جان کا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ ان دونوں سماجی کارکنوں کی طرف سے بھی مولانا عبدالعزیز کے خلاف منافرت پھیلانے اور اشتعال انگیزی کو ہوا دینے کے الزامات کے تحت پولیس مقدمات درج کروائے گئے تھے اور رواں ہفتے ہی مولانا نے عدالت سے قبل از گرفتاری ضمانت حاصل کی تھی۔

شہدا فاؤنڈیشن کے ترجمان حافظ احتشام نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں بتایا کہ سول سوسائٹی کے ان کارکنان کے خلاف شکایت کو تقویت دینے کے لیے ان کے پاس شواہد موجود ہیں اور ان امید ہے کہ پولیس اس پر کارروائی ضرور کرے گی۔

تاہم جبران ناصر نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ان کے خلاف درخواست جمع کروانے والوں کا مقصد لوگوں کو ڈرانا دھمکانا ہے اور وہ پولیس سے قانون کے مطابق مکمل تعاون کریں گے۔

دسمبر 2014ء میں پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر دہشت گرد حملے کے بعد ملک سے دہشت گرد و انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے قومی لائحہ عمل وضع کیا گیا تھا جس کے تحت دہشت گردوں کی معاونت کرنے والوں کے ساتھ ساتھ مذہب اور مسلک کی بنیاد پر اشتعال پھیلانے والوں کے خلاف بھی کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔

XS
SM
MD
LG