رسائی کے لنکس

logo-print

'پشتون اپنے حقوق کے لیے نکلے ہیں'


فائل فوٹو

افغانستان کے صدر اشرف غنی کی طرف سے پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں قبائلی افراد کے احتجاجی دھرنے سے متعلق بیان پر پاکستان کا تاحال کوئی سرکاری ردعمل تو سامنے نہیں آیا ہے تاہم مبصرین کی طرف سے افغان صدر کے بیان پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا جار ہا ہے۔

بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے اور افغان صدر کا بیان سفارتی آداب کے مطابق نہیں ہے لیکن دیگر کی رائے ہے کہ دھرنے میں شریک قبائلی مظاہرین کے ساتھ پاکستان کے صدر اور وزیر اعظم کو بھی یکجہتی کا اظہار کرنا چاہیے۔

قبائلی نوجوان نقیب اللہ محسود کی گزشتہ ماہ کراچی میں ایک مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاکت کے خلا ف ہونے والے عوامی مظاہروں اور احتجاجی دھرنے کے معاملے پر صدر غنی نے جمعہ کو اپنی ٹویٹس میں کہا تھا کہ وہ "پاکستان میں تاریخی پشتون لانگ مارچ کی بھرپور حمایت کرتے ہیں، جس کا بنیادی مقصد خطے میں بنیاد پرستی اور دہشت گردی کے خلاف لوگوں کو متحرک کرنا ہے۔"

اسلام آباد کا دھرنا نقیب اللہ محسود کے قتل میں ملوث پولیس افسر راؤ انوار کی گرفتاری کے مطالبے سے شروع ہوا تھا، تاہم پھر مظاہرین کے دیگر مطالبات بھی سامنے آئے جن میں لاپتا پشتونوں کی بازیابی سمیت قبائلی علاقوں میں اپنے معمولات زندگی میں انھیں درپیش مشکلات کو دور کرنے کے مطالبات بھی شامل ہو گئے۔

اسلام آباد: نقیب کے قاتلوں کی گرفتاری کے لیےجاری دھرنا ختم
please wait

No media source currently available

0:00 0:01:49 0:00

ہفتہ کی شام حکومت کی طرف سے یقین دہانی کے بعد یہ دھرنا ختم کر دیا گیا۔

عوامی نیشنل پارٹی کی ایک مرکزی رہنما اور سابق قانون ساز بشریٰ گوہر کا کہنا ہے کہ پشتون نوجوانوں کے حق میں ملک کے اندر اور باہر بھی آواز بلند کی جارہی ہے۔

ہفتہ کو احتجاجی دھرنے میں شرکت کے موقع پر وائس آف امریکہ سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ " یہ (لوگ) صرف ادھر دھرنا نہیں دیئے ہوئے ہیں ، سارے ملک میں ان سے یکجہتی کےلیے مظاہرے ہورہے اور افغانستان کے صدر نےبھی ان سے یکجہتی کا اظہار کیا ہے اچھا ہوتا کہ پاکستان کے صدر اور وزیر اعظم بھی ان کے پاس آ کر ان کے زخموں پر مرحم رکھتے کیونکہ انہوں نے مشکلات کا سامنا کیا ہے۔"

پشتون سیاسی رہنما اور قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب شیرپاؤ نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ وہ افغان صدر کے بیان پر تو تبصرہ نہیں کریں گے لیکن ان کے بقول وفاقی حکومت کو قبائلی عوام کے احساس محرومی کو دور کرنا ہو گا۔

"عدم تحفظ اور محرومی کا احساس نقیب اللہ کے واقعہ پرشدید ردعمل کے ساتھ سامنے آیا ہے اور اس معاملے کو اسی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے اور وفاقی حکومت کو ان معاملات کو حل کرنا چاہیے۔"

سینیئر تجزیہ کار سید نذیر کہتے ہیں کہ پاکستان میں انسانی حقوق کی تنظیمیں اور دیگر سماجی و سیاسی حلقے آواز بلند کرتے رہے ہیں اور اسلام آباد میں دھرنا دینے والوں کے مطالبات بھی جائز ہیں اور ملک کے اندر ان کی حمایت بھی کی جارہی ہے تاہم اس پر افغان صدر کا بیان ان کے بقول مناسب نہیں ہے ۔

"وہاں (قبائلی علاقوں میں) جو بارودی سرنگیں ہیں ان کو صاف کیا جائے اور جو بچے اور باقی لوگ ان کا نشانہ بنتے ہیں اس کا انہیں معاوضہ ادا کیا جائے، جو لوگ وہاں سے گرفتار کیے جاتے ہیں ان کے مقدمات کی سماعت کی جائے اور لوگوں کی تعمیر و بحالی کے کام کو تیز کیا جائے یہ مطالبات صحیح ہیں لیکن اس معاملے کو سیاسی اور نسلی رنگ دینا اور دیگر ملکوں کا اس معاملے پر بات کرنامیرے خیال میں مناسب نہیں ہے۔ "

حکومت کو موقف ہے کہ قبائلی عوام کو ملک کے قومی دھارے میں شامل کرنے اور ان کے بنیادی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے وہ کوشاں ہے اور بارودی سرنگوں کی وجہ سے متاثر ہونے والے افراد کو معاوضہ بھی فراہم کرے گی۔

رواں ہفتے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے قبائلی مظاہرین کے ایک گروپ سے ملاقات میں ان کے مطالبات پورے کرنے کا وعدہ کیا تھا جس کے بعد مظاہرین کی بڑی تعداد دھرنے سے واپس چلی گئی تھی لیکن درجنوں افراد نیشنل پریس کلب کے سامنے دھرنا دیے بیٹھے رہے اور یہ لوگ تحریری یقین دہانی پر اصرار کرتے آ رہے تھے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG