رسائی کے لنکس

logo-print

عمران خان کے 6 مطالبات، مذاکرات کا ابتدائی دور مکمل


عمران خان نے کہا ہے کہ وہ مذاکرات کیلئے تیار ہیں۔ لیکن، اس سے پہلے نواز شریف کا استعفیٰ ضروری ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ سپریم کورٹ ضمانتی بن جائے ’پھر وہ جو فیصلہ کرے گی، مان لیں گے‘

پاکستان تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان نے کہا ہے کہ وہ مذاکرات کیلئے تیار ہیں۔ لیکن، اس سے پہلے، نواز شریف کا استعفیٰ ضروری ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ سپریم کورٹ ضمانتی بن جائے پھر وہ جو فیصلہ کرے گی مان لیں گے۔

دوسری جانب، پی ٹی آئی کی جانب سے چار رکنی کمیٹی بھی تشکیل دے دی گئی ہے جس میں شاہ محمود قریشی، جہانگیر ترین،اعظم سواتی اور علیم خان شامل ہیں۔ یہ کمیٹی حکومتی ارکان سے مذاکرات کرے گی۔ تاہم، فوری طور پر ان مذاکرات کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا۔

بدھ کی رات اسلام آباد کے ڈی چوک میں دھرنے کے شرکاء سے خطاب میں انہوں نے 6مطالبات بھی پیش کئے۔ یہ مطالبات حسب ذیل ہیں:

۔وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے مستعفی ہونے تک کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے؛
۔ الیکشن دوبارہ منعقد کئے جائیں؛
۔ انتخابی اصلاحات کی جائیں؛
۔ غیرجانبدار نگراں حکومت قائم کی جائے؛
۔تمام الیکشن کمشنر اپنے اپنے عہدوں سے مستعفی ہوجائیں ۔۔اور
۔الیکشن میں دھاندلی کرنے والوں کا احتساب کیا جائے۔

سپریم کورٹ ضمانتی بن جائے: عمران خان
خطاب کے دوران، عمران خان کا یہ بھی کہنا تھا کہ سپریم کورٹ ضمانتی بن جائے پھر وہ جو فیصلہ کرے گی مان لیں گے۔ بقول اُن کے، ’انتخابی اصلاحات اور مینڈیٹ چوری کرنے والوں کا احتساب ہوجائے تو یہ فتح کی نشانی ہوگی‘۔

پی ٹی آئی کا سارا زور استعفے پر تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ مذاکرات کے لئے تیار ہیں۔ لیکن، اس سے پہلے نواز شریف کا استعفیٰ ضروری ہے۔

عمران خان کے بقول، ہماری کوشش ہے کہ اس پاکستان کو بدلیں،عوام نے جمہوریت سے امیدیں لگائی ہوئی تھیں۔ لیکن، جمہوریت کے نام پر صرف تباہی ہوئی۔

اُن کے الفاظ میں: ’حسنی مبارک بھی انتخابات کراتا تھا۔ لیکن، جمہوریت وہاں کبھی نہیں آئی‘۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’انتخابی سسٹم اسی طرح چلتا رہا تو پڑھے لکھے لوگوں کے لیے اس میں جگہ نہیں رہے گی‘۔

XS
SM
MD
LG