رسائی کے لنکس

دھرنا گروپ کی ایئرپورٹس اور ریلوے اسٹیشن بند کرنے کی دھمکی


فیض آباد میں ایک مذہبی گروپ کے کارکنوں کا دھرنا۔ 10 نومبر 2017

تحریک ختم نبوت کے ایک ہزار کے قریب کارکنوں نے تین دن سے راول پنڈی اسلام آباد کے درمیانی جنکشن  پر دھرنا دیا ہوا ہے جس کی وجہ سے دونوں شہروں کے درمیان سفر کرنے والے لاکھوں لوگ شديد متاثر ہیں۔  اسکولوں اور دفاتر میں حاضری کم ہے جبکہ متبادل راستوں پر شديد ٹریفک جام ہے۔

علی رانا

اسلام آباد میں فیض آباد کے مقام پر مذہبی جماعت کے جاری دمرنا کے دوران تحریک ختم نبوت کے پیر افضل قادری نے حکومتی وزرا کو براہ راست دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے ہمارے خلاف ایکشن سے پہلے سوچ سمجھ لیں، ورنہ ہمارے ساتھی وزرا کے بچوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

خادم حسین رضوی نے نماز جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اب آئندہ مرحلے میں ملک کے تمام ائیرپورٹس، ریلوے سٹیشن اور اہم شاہرایں بند کردی جائیں گی۔

انہوں نے کہا کہ مجھ سے وزیر داخلہ احسن اقبال نے رابطہ کیا اور مذاكرات کرنے چاہے لیکن ان کو بتا دیا ہے کہ سب سے پہلے وفاقی وزیر قانون زاہد حامد کر کابینہ سے فارغ کیا جائے،اسی کے بعد مذاكرات ہوں گے۔

تحریک ختم نبوت کے ایک ہزار کے قریب کارکنوں نے تین دن سے راول پنڈی اسلام آباد کے درمیانی جنکشن پر دھرنا دیا ہوا ہے جس کی وجہ سے دونوں شہروں کے درمیان سفر کرنے والے لاکھوں لوگ شديد متاثر ہیں۔ اسکولوں اور دفاتر میں حاضری کم ہے جبکہ متبادل راستوں پر شديد ٹریفک جام ہے۔

تحریک ختم نبوت کا مطالبہ ہے کہ الیکشن کمشن کے فارم میں تبدیلی کرنے والے افراد کے خلاف فوری کارروائی کی جائے اور سب سے پہلے وفاقی وزیر زاہد حامد کو برطرف کیا جائے۔ انہوں نے کہا مطالبات تسلیم نہ ہونے تک پورے ملک کا پہیہ جام کردیں گے۔ وزرا کے گھروں کا محاصرہ کیا جائے گا اور کالجز یونیورسٹیوں میں بھی مظاہرے کیے جائیں گے۔

وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا ہے کہ ہم تمام صورت حال کو دیکھ رہے ہیں اور مذاكرات کے ذریعے معاملہ حل کرنا چاہتے ہیں۔

دوسری جانب مذہبی جماعت کے راہنماؤں اور شرکا کے خلاف مزید دو مقدمات درج کر لیے گئے ہیں۔ ان دو الگ الگ مقدمات میں خادم حسین رضوی اور پیر افضل اعجاز سمیت دیگر افراد نامزد ہیں۔

FIR against sit in leaders
FIR against sit in leaders

تھانہ آئی نائن میں درج ہونے والے دو مقدمات میں سے ایک مقدمہ مجسٹریٹ غلام مرتضی چانڈیو کی مدعیت میں دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر درج کیا گیا ہے جبکہ دوسرا مقدمہ نجی ٹی وی کوہ نور کے عملے کی جانب سے درج کرایا گیا جس میں انہوں نے الزام عائد کیا ہے کہ کوریج کے دوران نیوز ٹیم پر حملہ کرکے کیمرہ چھینا گیا اور عملے کی گاڑی کے شیشے توڑ کر جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئیں۔

موجودہ صورت حال پر عوام کا زیادہ رد عمل پولیس اور حکومت کے خلاف دیکھنے میں ا ٓرہا ہے کیونکہ توہین مذہب کے نازک معاملہ پر کوئی بھی اس مذہبی جماعت کے خلاف بات کرنے کو تیار نہیں اور سب کا کہنا ہے کہ ریاست کدھر ہے؟؟

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG