رسائی کے لنکس

logo-print

عراق: پے در پے بم دھماکوں کی ذمہ داری داعش نے قبول کر لی


گزشتہ سال داعش نے شام اور عراق کے وسیع علاقوں پر قبضہ کر کے وہاں قتل و غارت گری کا بازار گرم کر رکھا تھا جس میں شیعہ آبادی کے علاوہ عراقی فورسز کو بھی موت کے گھاٹ اتارا جا چکا ہے۔

شدت پسند گروپ داعش نے پیر کو عراق میں ہونے والے متعدد بم دھماکوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ ان دھماکوں میں کم ازکم 57 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

سنی انتہا پسندوں نے منگل کو کہا کہ بصرہ کے نزدیک جنوبی قصبے الزبیر کی ایک مارکیٹ میں کار بم دھماکے سے شیعہ برادری کو نشانہ بنایا۔

پیر کو ہونے والے بم دھماکوں میں سب سے ہلاکت خیز حملہ دارالحکومت بغداد سے 80 کلومیٹر شمال مشرق میں واقع خالص نامی علاقے میں ہوا جس میں کم ازکم 35 افرا ہلاک ہوگئے تھے۔ اس علاقے میں شیعہ برادری کی اکثریت آباد ہے۔

ایک اور کار بم دھماکا بغداد کے مضافات میں حسینیہ ضلع میں ہوا جس میں 12 افراد مارے گئے۔

گزشتہ سال داعش نے شام اور عراق کے وسیع علاقوں پر قبضہ کر کے وہاں قتل و غارت گری کا بازار گرم کر رکھا تھا جس میں شیعہ آبادی کے علاوہ عراقی فورسز کو بھی موت کے گھاٹ اتارا جا چکا ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق گزشتہ سال اسی عرصے کے دوران ہونے والی ہلاکتوں کی نسبت رواں برس اس میں کچھ کمی دیکھی گئی ہے۔ پچھلے سال یہ تعداد 12 ہزار تھی جب کہ اس سال اب تک 10 ہزار افراد مارے جا چکے ہیں۔

امریکہ نے داعش کے خلاف لڑنے والی عراقی فورسز کو مشاورت فراہم کرنے کے علاوہ یہاں شدت پسندوں کے اہداف کو فضائی کارروائیوں میں نشانہ بنانے کا سلسلہ بھی شروع کر رکھا ہے جس سے داعش کی پیش قدمی میں خاطر خواہ کمی دیکھی گئی ہے۔

XS
SM
MD
LG