رسائی کے لنکس

logo-print

عراق: دولتِ اسلامیہ کے حملے، 19 پولیس اہلکار ہلاک


دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں نے شمال میں سمارہ شہر کے نزدیک ایک حملے میں عراقی فوج کا ایک ہیلی کاپٹر بھی مار گرایا ہے۔

عراق میں دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں نے ایک مغربی قصبے پر حملہ کرکے 19 پولیس اہلکاروں کو قتل کردیا ہے جب کہ شمال میں ایک دوسرے حملے میں عراقی فوج کا ایک ہیلی کاپٹر مار گرایا ہے۔

عراقی ذرائع ابلاغ کے مطابق ہیلی کاپٹر گرانے کا واقعہ دارالحکومت بغداد سے 95 کلومیٹر شمال میں واقع سمارہ شہر کے نزدیک پیش آیا۔

عراق کی وزارتِ دفاع کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کو بتایا ہے کہ شدت پسندوں نے کندھے پر رکھ کر فائر کیے جانے والے راکٹ کے ذریعے ہیلی کاپٹر کو نشانہ بنایا۔

حادثے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔

دولتِ اسلامیہ کے جنگجووں کا نشانہ بننے والا عراقی فوج کا یہ تیسرا ہیلی کاپٹر ہے۔ اس سے قبل اکتوبر میں بھی جنگجووں نے وسطی شہر بائیجی میں دو فوجی ہیلی کاپٹر مار گرائے تھے۔

خیال رہے کہ سمارہ کی اکثریتی آبادی شیعہ ہے جس کے رضاکاروں کے لشکر عراقی فوج کے ساتھ مل کر سنی شدت پسندوں کی پیش قدمی کے خلاف شہر کا دفاع کر رہے ہیں۔

دریں اثنا دولتِ اسلامیہ کے جنگجووں نے عراق کے مغربی صوبے الانبار کے قصبے الوفا کے پولیس ہیڈ کوارٹر پر حملہ کرکے لگ بھگ 19 پولیس اہلکاروں کو قتل کردیا ہے۔

عراقی حکام کے مطابق شدت پسندوں نے صوبائی دارالحکومت رمادی سے 45 کلومیٹر مغرب میں واقع قصبے کی جانب جمعے کو پیش قدمی شروع کی تھی اور شدت پسند ہفتے کی صبح قصبے پر قابض ہوگئے تھے۔

قصبے کے میئر حسین قصار نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ قصبے کی پولیس جمعے کی صبح سے شدت پسندوں کی پیش قدمی روکنے کی کوشش کر رہی تھی لیکن اسلحے کی کمی کے باعث پولیس اہلکاروں کو پسپا ہونا پڑا۔

قصبے کے میئر نے شکوہ کیا کہ شدت پسندوں کی پیش قدمی روکنے اور قصبے کے دفاع کے لیے انہیں کسی جانب سے کوئی مدد فراہم نہیں کی گئی۔

میئر نے بتایا کہ پولیس اہلکاروں کے ساتھ سنی قبائل کے رضاکاروں نے بھی شدت پسندوں کی پیش قدمی روکنے کی کوشش کی تھی لیکن قصبے میں پہلے سے موجود شدت پسندوں کے ساتھیوں کے اچانک حملوں اور گولی بارود کی کمی کے سبب انہیں پسپائی اختیار کرنا پڑی۔

میئر نے ٹیلی فون کے ذریعے ذرائع ابلاغ کو بتایا ہے کہ وہ سنی جنگجووں اور پولیس اہلکاروں کے ہمراہ قصبے کے نواح میں موجود پولیس ہیڈ کوارٹر میں محصور ہیں جسے شدت پسندوں نے گھیر رکھا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر انہیں فوری مدد نہ پہنچی تو پولیس کے دفتر میں پناہ گزین تمام افراد کے شدت پسندوں کے ہاتھوں قتلِ عام کا خدشہ ہے۔

XS
SM
MD
LG