رسائی کے لنکس

’’دولت اسلامیہ نہ صرف ایک دہشت گرد تنظیم ہے، بلکہ یہ ایک نام نہاد ریاست ہے۔ جس کا مطلب یہ ہوا کہ اس کے پاس علاقہ ہے، آبادی ہے، جب کہ اس کی زیادہ تر آمدن کا ذریعہ اپنا علاقہ ہے۔ یہ عوام پر ٹیکس عائد کرتی ہے، یہ تیل پیدا کرتی ہے، یہ لوگوں سے لوٹی ہوئی ملکیت پر اپنا حق جماتی ہے‘‘

لندن میں قائم ’بین الاقوامی مرکز برائے مطالعہٴ قدامت پسندی‘ اور ’ارنسٹ اینڈ ینگ اکاؤنٹنگ گروپ‘ نے دولت اسلامیہ کی مالیاتی صورتِ حال پر تفصیلی تجزیہ تیار کیا ہے، جس کے مطابق، داعش کا مالیاتی کاروباری نمونہ ناکام ثابت ہو رہا ہے؛ اور یہ کہ بہت جلد گروپ کو مالی تباہی درپیش ہو سکتی ہے۔


رپورٹ کے شریک مصنف، پروفیسر پیٹر نیومن نے کہا ہے کہ داعش کو اکثر امیر ترین دہشت گرد تنظیم قرار دیا جاتا ہے؛ لیکن یہ تشریح غلط ہے۔


بقول اُن کے، ’’دولت اسلامیہ نہ صرف ایک دہشت گرد تنظیم ہے، بلکہ یہ ایک نام نہاد ریاست ہے۔ جس کا مطلب یہ ہوا کہ اس کے پاس علاقہ ہے، آبادی ہے، جب کہ اس کی زیادہ تر آمدن کا ذریعہ اپنا علاقہ ہے۔ یہ عوام پر ٹیکس عائد کرتی ہے، یہ تیل پیدا کرتی ہے، یہ لوگوں سے لوٹی ہوئی ملکیت پر اپنا حق جماتی ہے‘‘۔


علاقہ کھو دیا ہے


نیومن نے کہا ہے کہ چونکہ تنظیم کی آمدن کا انحصار اُسی خطے پر ہے جس پر وہ قابض ہے، گروپ کمزور ہوتا جا رہا ہے۔ ادھر 68 ملکوں کے اتحاد نے، جو داعش کے خلاف نبردآزما ہے، کہا ہے کہ 2014ء کے وسط تک عراق میں گروپ کے عروج کے زمانے کا 62 فی صد علاقہ چھینا جا چکا ہے؛ جب کہ شام میں 30 فی صد رقبہ گروپ کے پاس نہیں رہا۔


عراقی افواج نے، جنھیں امریکہ کی مدد حاصل ہے، مشرقی موصل کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے، اور اُنھیں توقع ہے کہ آئندہ ہفتوں کے اندر شہر کے مغربی علاقے کا نصف واگزار کرا لیا جائے گا۔


سنہ 2014 میں داعش نے موصل پر قبضہ جمایا، جو عراق کا دوسرا بڑ اشہر ہے۔

گذشتہ اکتوبر میں، جہادی گروپ سے شہر واگزار کرانے کی کارروائی شروع کی گئی۔


نیومن کہتے ہیں کہ ’’اگر اب داعش موصل میں شکست کھاتی ہے، جو اس کی خلافت کا تجارتی دارالحکومت ہے، اس کے ٹیکس کا گڑھ اُس کے ہاتھوں سے جاتا رہے گا۔ یہی وجہ ہے کہ ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ داعش کا کاروباری ماڈل تقریباً تباہ ہونے والا ہے۔ یہ ناکام ہو چکا ہے۔ یہ مزید وقت تک اُس کے پاس نہیں رہ سکتا‘‘۔


گروپ کی نوعیت اس طرح کی ہے کہ درست تجزیہ کرنا مشکل امر ہے، چونکہ وہ زیادہ تر کالے دھن پر چلتی ہے، جس کا انتظام تحریری دستاویزات پر مشتمل نہیں۔


دستیاب کھلے ثبوت کی بنیاد پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ گروپ کی سالانہ آمدن نصف رہ گئی ہے۔ سنہ 2014 میں اس کے مالی وسائل کی مالیت 1.9 ارب ڈالر تھی، جب کہ گذشتہ سال یہ گھٹ کر زیادہ سے زیادہ 87 کروڑ ڈالر رہ گئی تھی۔


نیومن نے بتایا ہے کہ اس بات کی کوئی نشانی نہیں کہ گروپ کے پاس آمدن کا کوئی اضافی ذریعہ ہو۔

آپ کی رائے

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG