رسائی کے لنکس

logo-print

اسلامی سربراہی کانفرنس میں شام، مالی کے حالات پر گفتگو


اجلاس کے شرکا نے افریقی مسلم ملک مالی کی حکومت کے حق میں ایک قرارداد بھی منظور کی۔

مصر میں جاری دو روزہ اسلامی سربراہی کانفرنس کے اختتامی روز بھی شام کا بحران مسلمان ممالک کے رہنمائوں کی توجہ کا مرکز بنا رہا جب کہ اجلاس کے شرکا نے افریقی مسلم ملک مالی کی حکومت کے حق میں ایک قرارداد بھی منظور کی۔

اسلامی ممالک کی نمائندہ تنظیم 'او آئی سی' کے قاہرہ میں ہونے والے سربراہی اجلاس کا اعلامیہ جمعرات کی شب جاری کیے جانے کا امکان ہے جس میں قیاس کیا جارہا ہے کہ شامی بحران کے حل کے لیے فریقین سے فوری مذاکرات شروع کرنے کا مطالبہ کیا جائے گا۔

ذرائع ابلاغ کو ملنے والی مجوزہ اعلامیہ کی ایک نقل کے مطابق اس میں شام کے صدر بشار الاسد کی حکومت کو ملک میں جاری خانہ جنگی اور گزشتہ دو برس سے جاری قتل و غارت کا مرکزی ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ 'او آئی سی' نے اسد انتظامیہ کی جانب سے اپنے ہی عوام کے خلاف ریاستی طاقت کے استعمال کی مذمت کرتے ہوئے گزشتہ برس اگست میں شام کی رکنیت معطل کردی تھی۔

جمعرات کو ہونے والی اجلاس کے دوسرے روز اسلامی ممالک کے رہنمائوں نے ایک قرارداد بھی منظور کی جس میں مالی میں ہونے والی دہشت گردی کی مذمت کرتے ہوئے مغربی افریقہ کے اس مسلمان ملک کے اتحاد اور جغرافیائی سلامتی کے لیے مسلم دنیا کی حمایت کا اعادہ کیا۔

تاہم حیرت انگیز طور پر اس قرارداد میں فرانس کی جانب سے مالی میں کی جانے والی فوجی مداخلت کا تذکرہ نہیں کیا گیا ہے۔

فرانس نے گزشتہ ماہ مالی حکومت کی درخواست اپنے فوجی دستے وہاں بھجوائے تھے جو 'القاعدہ' سے منسلک جنگجووں کو ان کے زیرِ قبضہ علاقوں سے پیچھے دھکیلنے میں مصروف ہیں۔

فرانس کی فوجی مداخلت سے قبل ملک میں سیاسی عدم استحکام کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انتہا پسند اسلامی گروہوں نے ملک کے شمال میں وسیع علاقے پر قبضہ کرلیا تھا اور باغی بتدریج دارالحکومت بماکو کی طرف بڑھ رہے تھے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ 'او آئی سی' کی قرارداد میں فرانس کی فوجی مداخلت کے ذکر سے گریز کی بڑی وجہ مالی کا اپنی داخلی مشکلات کے پیشِ نظر اپنے سابق نوآبادیاتی آقا سے رجوع کرنا ہے جوکئی مسلم ممالک کو پسند نہیں آیا۔

گوکہ 'او آئی سی' کے سبکدوش ہونے والے چیئرمین اور افریقی ملک سینیگال کے صدر میکی سال نے گزشتہ روز اجلاس سے اپنے خطاب میں مالی میں فرانس کی فوجی مداخلت کو سراہا تھا لیکن دو روزہ سربراہی اجلاس کے دوران میں دیگر مسلم رہنما اس بارے میں بات کرنے سے گریز کرتے رہے۔
XS
SM
MD
LG