رسائی کے لنکس

logo-print

مسلم تنظیم کی سوچی اولمپکس پر حملوں کی دھمکی


ولایت داغستان' نامی تنظیم نے کہا ہے کہ وہ 'سوچی اولمپکس' پر حملے کرکے افغانستان، صومالیہ اور شام سمیت "دنیا بھر میں بہنے والے مسلمانوں کے خون کا بدلہ" لے گی۔

ایک مسلمان شدت پسند تنظیم نے روس کے شہر وولگو گراڈ میں گزشتہ ماہ ہونے والے دو خود کش حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے روس کی میزبانی میں آئندہ ماہ ہونے والے سرمائی اولمپکس کے موقع پر مزید حملوں کی دھمکی دی ہے۔

انٹرنیٹ پر جاری کی جانے والی ایک ویڈیو میں 'ولایت داغستان' نامی تنظیم نے کہا ہے کہ وہ 'سوچی اولمپکس' پر حملے کرکے افغانستان، صومالیہ اور شام سمیت "دنیا بھر میں بہنے والے مسلمانوں کے خون کا بدلہ" لے گی۔

روسی زبان میں جاری کیے جانے والے اس ویڈیو پیغام میں شدت پسند تنظیم کا ایک عہدیدارروس کے صدر ولادی میر پیوٹن کو مخاطب کرتے ہوئے کہہ رہا ہے کہ "اگر تم نے اولمپکس کی میزبانی کی تو ہم تمہیں اور [اولمپکس میں شرکت کے لیے] آنے والے تمام سیاحوں کو ایک تحفہ دیں گے"۔

ویڈیو میں دکھائے جانے والے شخص نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ مہینے وولگو گراڈ میں ہونے والے دو مختلف خود کش حملے سلیمان اور عبدالرحمن نامی 'ولایت داغستان ' کے دو حملہ آوروں نے کیے تھے۔ ان حملوں میں 34 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

خیال رہے کہ شمالی قفقاز میں واقع داغستان روس کے زیرِانتظام ایک نیم خودمختار مسلم اکثریتی علاقہ ہے جہاں بعض گروہ ایک علیحدہ مسلم ریاست کے قیام کے لیے روس سے علیحدگی کی مسلح تحریک چلا رہے ہیں۔

علاقے کے شدت پسندوں کے ایک رہنما دوکو عمروف نے بھی اس سے قبل علاقے میں سرگرم مسلمان گوریلوں پر زور دیا تھا کہ وہ سوچی میں ہونے والے سرمائی اولمپکس کو حملوں کا نشانہ بنائیں۔

خیال رہے کہ اولمپکس کی میزبانی کرنے والا سوچی شہر قفقاز کے مغربی پہاڑی سلسلے سے متصل ہے۔

شدت پسندوں کی اس دھمکی کے منظرِ عام پر آنے سے ایک روز قبل صدر پیوٹن نے اعلان کیا تھا کہ ان کا ملک فروری میں ہونے والے اولمپکس مقابلوں کی سکیورٹی کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گا۔
XS
SM
MD
LG