رسائی کے لنکس

logo-print

اسرائیل کا اقوامِ متحدہ پر حماس سے وابستہ تنظیم کو تسلیم کرنے کا الزام


اسرائیل نے اس تنظیم پر دہشت گردی کو فروغ دینے اور حماس کی یورپی شاخ ہونے کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ اس تنظیم کے ارکان حماس کے اعلیٰ عہدیدار ہیں۔

اسرائیل نے اقوام متحدہ کی ایک کمیٹی پر ایک فلسطینی غیر سرکاری تنظیم کو تسلیم کرنے کا الزام لگایا ہے جو اس کے بقول حماس سے وابستہ ہے۔ حماس اس وقت غزہ پر حکومت کر رہی ہے مگر اسرائیل اسے ایک دہشت گرد تنظیم سمجھتا ہے۔

برطانیہ میں قائم ’پیلسٹینین ریٹرن سنٹر‘ نے اقوامِ متحدہ میں منظوری کی سند کی درخواست دی تھی جسے تین کے مقابلے میں 12 ووٹوں سے منظور کر لیا گیا۔

اسرائیل، یوراگوئے اور امریکہ نے اس کے خلاف ووٹ ڈالا جبکہ ایران، سوڈان، وینیزویلا، بھارت اور روس نے اس کے حق میں ووٹ دیا۔ یونان نے ووٹ ڈالنے سے احتراز کیا۔

’پیلیسٹینین ریٹرن سنٹر‘ کا کہنا ہے مشرقِ وسطیٰ کے مسئلے کا حل، جس میں فلسطینیوں کے حقوق کی ضمانت ہو، اور فلسطینیوں کے مصائب کی یورپ میں تشہیر کرنا اس کے مشن میں شامل ہے۔

مگر اسرائیل نے اس تنظیم پر دہشت گردی کو فروغ دینے اور حماس کی یورپی شاخ ہونے کا الزام لگایا ہے۔ اسرائیل نے کہا ہے کہ اس تنظیم کے ارکان حماس کے اعلیٰ عہدیدار ہیں۔

اسرائیل کے اقوامِ متحدہ میں سفیر نے طنزیہ کہا کہ اقوامِ متحدہ نے حماس کے لیے ’’استقبالیہ جشن‘‘ کا اہتمام کیا ہے۔

’’اگر اسی طرح ہوتا رہا تو ایک دن ہم حزب اللہ کو سکیورٹی کونسل میں بیٹھے اور داعش کو انسانی حقوق کونسل میں ووٹ ڈالتے ہوئے دیکھیں گے۔‘‘

اقوامِ متحدہ نے اسرائیلی سفیر کی بات پر ابھی کسی ردعمل کا اظہار نہیں کیا ہے۔

XS
SM
MD
LG