رسائی کے لنکس

logo-print

غزہ پر اسرائیلی حملے جاری، ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ


حماس نے فضائی کمپنیوں کو اسرائیل کے بن غوریون بین الاقوامی ہوائی اڈے کے لیے اپنی پروازیں بند کرنے کی تنبیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس ایئر پورٹ کو نشانہ بنا سکتے ہیں

غزہ میں اسرائیل کے فضائی حملے جمعہ کو چوتھے روز بھی جاری رہے اور مقامی محکمہ صحت کے عہدیداروں کے مطابق چار روز سے جاری ان کارروائیوں میں مرنے والوں کی 100 تک پہنچ گئی ہے جب کہ 675 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔

جمعہ کو رفح کے علاقے میں ایک مشتبہ عسکریت پسند کے گھر پر ہونے والی بمباری میں ایک خاتون سمیت پانچ افراد ہلاک ہو گئے۔

اسرائیل نے حماس کے عسکریت پسندوں کی طرف سے راکٹ حملوں کے تناظر میں غزہ کی پٹی پر منگل کو فضائی کارروائیوں کا سلسلہ شروع کیا تھا۔

اس عسکریت پسند گروپ کی طرف سے اب تک چار سو سے زائد گولے اسرائیلی علاقوں میں پھینکے جا چکے ہیں لیکن ان میں کسی طرح کا جانی نقصان نہیں ہوا۔

ادھر حماس نے فضائی کمپنیوں کو اسرائیل کے بن غوریون بین الاقوامی ہوائی اڈے کے لیے اپنی پروازیں بند کرنے کی تنبیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس ایئر پورٹ کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔

جمعہ کو اس گروپ کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ ’’غزہ کی پٹی میں شہریوں پر اسرائیلی حملوں کے تناظر میں حماس کے عسکریت پسند دھڑے نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ اسرائیلی جارحیت کا جواب دے گا۔ ہم آپ (فضائی کمپنیوں) کو متنبہ کرتے ہیں کہ بن غوریون کے لیے اپنی پروازیں بند کریں، یہ ہمارے اہداف میں سے ایک ہے کیونکہ یہ اڈہ فضائیہ کے زیر استعمال بھی ہے۔‘‘

قبل ازیں جمعہ ہی کو اس گروپ نے ایئرپورٹ کی طرف ایک راکٹ داغا تھا لیکن یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ یہ کہاں گرا۔

اسرائیل کی ایئرپورٹ اتھارٹی کے ایک ترجمان کا کہنا تھا کہ بن غوریون ہوائی اڈے پر سائرن کی آواز سنی گئی اور یہاں تقریباً دس منٹ کے لیے سرگرمیاں معطل رہیں۔ لیکن ان کے بقول یہ سائرن معمول کی مشقوں کا حصہ تھا۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے فریقین پر تحمل سے کام لینے پر زور دیا تاکہ ان کے بقول لڑائی ختم ہو سکے۔ لیکن اس اپیل کے باوجود اسرائیل کے وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے اپنی پارلیمنٹ کے ایک کمیٹی اجلاس میں کہا کہ جنگ بندی پر غور نہیں کیا جارہا۔

دوسری جانب امریکہ نے بھی جنگ بندی کرانے کے لیے ثالثی کی پیشکش کی ہے۔ ایک بیان کے مطابق امریکہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان 2012 میں طے پانے والے جنگ بندی کے معاہدے کے دوبارہ اطلاق کے لیے ثالث بننے پر آمادہ ہے۔

XS
SM
MD
LG