رسائی کے لنکس

اسرائیل کی کالی بکریوں پر چرا گاہوں کے دروازے کھل گئے


اسرائیل کی کالی بکری

بکری مخالف قانون کا سب سے زیادہ نقصان عرب گلہ بانوں کو ہوا جو بکریوں کی یہ نسل پالنے کے حق سے محروم ہو گئے تھے۔

اسرائیل کی بکریوں کی کالی نسل کی بکریوں کے دن پھرنے والے ہیں اور چرا گاہوں کے دروازے ان پر دوبارہ کھلنے والے ہیں جہاں ان کا داخلہ 1950 میں بند کر دیا گیا تھا۔

کالے رنگ کی ان بکریوں کو اسرائیل میں شامی نسل کی بکریاں کہا جاتا ہے۔ ان کے بارے میں یہ تاثر ہے کہ وہ سبزہ چٹ کر جاتی ہیں اور جنگلوں کے جنگل کھا جاتی ہیں۔ سن 1950 میں اسرائیل کی حکومت نے ماحول اور جنگلات کے تحفظ کے لیے جنگلات اور سرسبز میدانوں میں ان کے داخلے پر پابندی لگا دی تھی اور اس سلسلے میں قانون سازی کی گئی تھی۔

لیکن تقریباً 70 سال کے بعد حال ہی میں اسرائیل کی پارلیمنٹ نے ابتدائی خواندگی میں کالی بکریوں پر نافذ ‘امتیازی قانون‘کو منسوخ کرنے کی منظوری دی۔

کالی بکریاں اگر ممیانے کے علاوہ بول سکتیں تو یقیناً اس قانون کو کالے قانون کا نام دیتیں۔ تاہم اسرائیلی پارلیمنٹ کے ایک عرب اسرائیلی رکن جمال زاہالکا نے کالی بکریوں کے دکھ کو محسوس کیا اور پابندی کے قانون کی منسوخی کا بل ایوان میں پیش کیا۔

آگ پکڑنے والی جھاڑیاں کالی بکریوں کی مرغوب غذا ہے
آگ پکڑنے والی جھاڑیاں کالی بکریوں کی مرغوب غذا ہے

قانونی مسودے میں کہا گیا ہے کہ جنگلات میں بکریوں کو چرنے کی اجازت دینے سے ان جڑی بوٹیوں اور خودرو گھاس کو کم کرنے میں مدد ملے گی جو اکثر اوقات جنگلوں میں لگنے والی آگ کا سبب بنتی ہیں۔

حکومت اس بل کی حمایت کر رہی ہے۔

توقع ہے کہ پارلیمنٹ سے قانون کی منسوخی سے کالی نسل بکریوں کی نسل بڑھانے میں مدد ملے گی جن کی تعداد گذشتہ عشروں کے دوران مسلسل گر رہی ہے۔

پارلیمنٹ کے رکن جمال کا کہنا ہے کہ آج سے تقریباً 45 سال پہلے کالی نسل کی بکریوں کی تعداد 15 ہزار کے لگ بھگ تھی جو اب گر کر دو ہزار تک پہنچ چکی ہے۔

یہ بکریاں اسرائیل کے شمالی جنگلاتی علاقوں میں پائی جاتی ہیں۔

جمال کا کہنا ہے کہ اس قانون سازی کے ذریعے ہم تاریخی ناانصافی کا ازالہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اس ناانصافی کا ہدف خاص طور پر عرب اسرائیلی بن رہے ہیں جو کالی نسل کی بکریاں پالنا پسند کرتے ہیں ۔ بحیرہ روم کے ساحلی علاقوں کا موسم اور فضا ان کی پرورش کے لیے بڑی موزونیت رکھتا ہے۔

وہ کہتے ہیں بکری مخالف قانون کا سب سے زیادہ نقصان عرب گلہ بانوں کو ہوا جو بکریوں کی یہ نسل پالنے کے حق سے محروم ہو گئے تھے۔

عرب اسرائیلی ان فلسطینوں کی اولادیں ہیں جنہوں نے 1948 میں یہودی ریاست اسرائیل کے قائم ہونے کے بعد اپنی آبائی زمینوں پر ہی رہنے کا فیصلہ کیا تھا۔

حالیہ عرصے کے مطالعاتی جائزوں سے ظاہر ہوا کہ کالی بکریاں جنگلوں میں بھڑک اٹھنے والی آگ کا خطرہ کم کرنے میں مدد دے سکتی ہیں، کیونکہ وہ ایسی خودروجڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کی بڑی رغبت سے کھاتی ہیں جو بہت تیزی سے آگ پکڑ لیتی ہیں۔

اسرائیل کے وزیر داخلہ یوری ایرئیل نے کہا ہے کہ کالی بکریاں جنگلات کو آگ لگنے سے محفوظ رکھنے میں اہم کر دار ادا کر سکتی ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہم ایسے علاقوں میں کالی بکریوں کو چرنے کے لیے چھوڑنے کی حوصلہ افزائی کریں گے، جہاں خاص موسموں میں ایسا کیا جانا ضروری ہو۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG