رسائی کے لنکس

logo-print

برطانیہ کی طرف سے ملک بدر کیا جانے والا سفارت کار جاسوس تھا: اسرائیلی میڈیا


اسرائیلی میڈیا نے کہا ہے کہ برطانیہ نے جس سفارت کار کو ملک بدر کرنے کا فیصلہ کیا ہے وہ اسرائیلی جاسوس ہے اور اسرائیل جلد ہی اس کا متبادل برطانیہ بھیج دے گا۔

اسرائیلی ریڈیو نے بدھ کے روز خبر دی ہے کہ یہ سفارت کار اسرائیل کے خفیہ ادارے موساد کا اہل کار تھا۔ ریڈیو نے مزید بتایا ہے کہ اسرائیل ممکنہ طور پر جلد ہی اس کی بجائے ایک اور جاسوس برطانیہ بھیج دے گا۔

اس سے قبل اسرائیل نے برطانیہ کی طرف سے ایک اسرائیلی سفارت کار کو ملک بدر کرنے کے فیصلے پر افسوس کا اظہار کیا تھا۔

برطانیہ کا کہنا ہے کہ یہ قدم فلسطینی کمانڈر محمود المبحوح کے قتل میں ملوث مشتبہ اسرائیلی قاتلوں کے جعلی برطانوی پاسپورٹوں کے استعمال کا ردِ عمل کے طور پر اٹھایا گیا ہے۔

اسرائیلی وزیرِ خارجہ نے منگل کے روز اس بات کو دہرایا کہ جنوری میں دبئی میں حماس کے کمانڈر کے قتل میں اسرائیل کے ملوث ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔

منگل ہی کے روز برطانوی وزیرِ خارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ نے برطانوی پارلیمان کو بتایا تھا کہ اس یقین کی ناگزیر وجوہات موجود ہیں کہ دبئی پولیس کے دعوے کے مطابق اسرائیل نے اس قتل کے لیے 12 جعلی برطانوی پاسپورٹ استعمال کیے تھے۔

ملی بینڈ نے کہا کہ سراغ رسانوں نے دریافت کیا ہے کہ جعلی پاسپورٹ ان اصل برطانوی پاسپورٹوں کی نقل تھے جو ایسے لوگوں کو معائنے کے لیے دیے گئے تھے جن کا اسرائیل سے تعلق تھا۔ انھوں نے کہا کہ جعلی پاسپورٹ بہت مہارت سے بنائے گئے تھے جن سے ظاہر ہوتا ہے کسی ملک کے خفیہ ادارے نے یہ کام کیا تھا۔

ملی بینڈ نے کہا کہ اسرائیل کی طرف سے برطانوی پاسپورٹوں کا غلط استعمال ’ناقابلِ قبول‘ ہے۔ تاہم انھوں نے اسرائیل پر المبحوح کے قتل کا الزام نہیں لگایا۔

اسرائیلی حکام نے کہا ہے کہ وہ جوابی کارروائی کے طور پر کسی برطانوی سفارت کار کو ملک بدر نہیں کریں گے۔

XS
SM
MD
LG