رسائی کے لنکس

logo-print

مار گرایا جانے والا ایرانی ڈرون حملے کے لیے تیار تھا: اسرائیل کا دعویٰ


اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو 'گرائے جانے والے ایرانی ڈرون کا ایک ٹکڑا پکڑے ہوئے'

اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ رواں سال فروری میں اس کی طرف سے مار گرائے جانے والا بغیر ہواباز کے ایرانی ڈرون طیارہ بارود سے لیس تھا اور یہ اسرائیل پر حملہ کرنے کے ایک مشن پر تھا ۔

اسرائیل کی فوج نے ہفتہ کو جاری بیان میں کہا کہ "ایرانی طیارہ بارود سے لیس تھا اور اسے اسرائیل کی سرزمین پر حملے کرنے کا کام سونپا گیا تھا۔"

فوج کا مزید کہنا ہے کہ اس نے یہ نتیجہ ڈرون کے واقعے سے متعلق انٹلی جنس معلومات کے بنا پر کی جانے والی تحقیقات سے اخذ کیا ہے۔

فوج کے بیان کے مطابق اسرائیل کے لڑاکا طیارے نے اس ڈرون طیارے کو مار گرایا اور ایران کے طرف سے حملہ کرنے کے متوقع منصوبے کو ناکام بنا دیا۔

اسرائیلی حکام کے بقول بیت شین کے شمالی قصبے میں 10 فروری کو پیش آنے والا واقعہ ایران کی طرف سے اپنے اتحادی لبنان کے حزب اللہ ملیشیا یا دوسرے حامی گروپوں کے ساتھ مل کر اسرائیل کو نشانہ بنانے کی بجائے خود ایسا کرنے کی پہلی کوشش کی غمازی کرتا ہے۔

اسرائیل کی طرف سے یہ بیان حزب اللہ کے رہنما کے 13 اپریل کو دیئے جانے والے بیان کے بعد سامنا آیا ہے جس میں رواں ہفتے کے اوائل میں شام میں ہونے والی مبینہ فضائی کارروائی کو ایک "تاریخی غلطی قرار دیتے ہوئے کہا گیا تھا کہ اس کی وجہ سے مشرق وسطیٰ کی دو طاقتوں کے درمیان کھلم کھلا تنازع شروع ہو جائے گا۔"

حسن نصراللہ نے لبنان میں ایک ٹی وی نشریہ میں کہا کہ "اسرائیل نے ایک تاریخی غلطی کی ہے اور انہوں نے اپنے آپ کو ایران کے ساتھ ایک براہ راست تنازع کی صورت حال میں لا کھڑا کیا ہے۔"

انہوں نے کہا شام کے ٹی 4 ہوائی اڈے پر مارے جانے والے ایرانی، ایران کے پاسداران انقلاب کے اراکین تھے۔

"اس کی سات سالوں میں کوئی ایسی مثال نہیں کہ اسرائیل نے براہ راست ایران کے پاسداران انقلاب کو نشانہ بنایا ہو۔ ۔۔یہ(واقعہ ) اس خطے کے لیے اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے اور جو کچھ پہلے ہو چکا ہے ایسا اس کے بعد نہیں ہوگا۔ "

اسرائیل نے شامی فضائی اڈے پر حملے کی نا تو تصدیق اور ناہی تردید تاہم اسرائیل کی فوج کا کہنا ہے کہ فروری میں جو ڈرون طیارہ اس نے مار گرایا تھا اسے فضائی اڈے سے اڑان بھرتے ہو ئے دیکھا گیا تھا۔

روس اور شام نے فضائی اڈے پر حملے کا الزام اسرائیل پر عائد کیا ہے اور کریملن نے رواں ہفتے کہا تھا کہ صدر ولادیمر پوتن نے اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو سے فون پر گفتگو کرتے ہوئے اس معاملے پر بات کی۔

اسرائیل نے حال ہی میں ایران کو کئی بار سخت انتباہ اور شام اور لبنان کے ساتھ اس کی سرحد کے ساتھ ایران کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں سے متعلق اعتراض بھی کیا۔

اسرائیلی رہنماؤں نے تنبیہ کی ہے کہ وہ شام کی سرحد کے قریب ایران کی مستقل بنیادوں پر فوجی موجودگی کی اجازت نہیں دیں گے جہاں سے وہ حملے کر سکیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG