رسائی کے لنکس

logo-print

غزہ کی پٹی میں اسرائیل کی کارروائی میں شدت


فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ منگل اور بدھ کو غزہ میں متعدد علاقوں کو نشانہ بنایا گیا اور ان حملوں میں کم ازکم 25 افراد مارے گئے۔

اسرائیل کی طرف سے غزہ کی پٹی پر حملوں کا سلسلہ بدھ کو بھی جاری ہے اور اب تک ہونے والی کارروائیوں میں لگ بھگ دو درجن افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

یہ حملے فلسطینی علاقے سے اسرائیلی اہداف پر راکٹ حملوں کو روکنے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔

فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ منگل اور بدھ کو غزہ میں متعدد علاقوں کو نشانہ بنایا گیا اور ان حملوں میں کم ازکم 25 افراد مارے گئے۔ فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ان کارروائیوں میں ایک سو سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

اسرائیل اس بات کا عندیہ دے چکا ہے کہ وہ فضائی حملوں کے علاوہ زمینی کارروائی بھی شروع کر سکتا ہے۔

اسرائیل کے وزیر دفاع موشیہ یعلون نے منگل کو کہا تھا کہ یہودی ریاست غزہ میں حماس کے عسکریت پسندوں کے خلاف مہم کے لیے تیار ہے اور یہ "چند دنوں میں ختم نہیں ہوگی۔"

اسرائیل کی سلامتی کی کابینہ نے فوج کو ریزرو فورس کے 40 ہزار اہلکاروں کو طلب کرنے کا اختیار دیا ہے۔ اس سے قبل 1500 کو پہلے ہی طلب کیا جا چکا ہے۔

اسرائیلی فوج کے مطابق اس کی یہ کارروائیاں "آپریشن پروٹیکٹوو ایج" کا حصہ ہیں اور اس میں ایک سو سے زائد مقامات بشمول گھروں اور راکٹ داغنے کی جگہوں کو نشانہ بنایا گیا۔

اسرائیل نے ان کارروائیوں میں کسی ہلاکت کی اطلاع نہیں دی ہے۔

ادھر وائٹ ہاؤس کے ترجمان جوش ارنسٹ نے منگل کو حماس کی طرف سے راکٹ داغنے کے واقعات کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔

"مجھے اپنی بات اس طرح سے شروع کرنے دیجیے کہ ہم اسرائیل میں راکٹ داغنے کے عمل اور غزہ میں دہشت گرد تنظیموں کی طرف سے دانستہ طور پر شہریوں کو نشانہ بنانے کی مذمت کرتے ہیں۔ کوئی بھی ملک شہریوں کو راکٹ سے نشانہ بنانے کو قبول نہیں کر سکتا اور ہم ان وحشیانہ حملوں کے خلاف اسرائیل کے دفاع کے حق کی حمایت کرتے ہیں۔"

اسرائیل کے ٹینکوں اور دیگر بکتر بند گاڑیوں کی غزہ کی سرحد کے قریب نقل و حرکت دیکھی جارہی ہے اور فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ فوج ممکنہ زمینی کارروائی کے لیے ریزرو دستوں کو بھرتی کر رہی ہے۔

اسرائیل کے صدر شمون پریز کا کہنا تھا کہ ان کے ملک کے پاس جنوبی اسرائیل میں حماس کی طرف سے راکٹ داغنے کا ردعمل ظاہر کرنے کا کوئی اور راستہ نہیں ہے۔

اسرائیل اور فلسطین کے درمیان جاری کشیدگی کو حالیہ ہفتوں میں تین اسرائیلی اور پھر ایک فلسطینی لڑکے کے اغواء اور قتل کے واقعات سے مزید بڑھاوا ملا۔

XS
SM
MD
LG