رسائی کے لنکس

اسرائیلی وزیر اعظم کا دورہ مصر اور مشرق وسطی کے حالات


بینیٹ اور السیسی ملاقات کرتے ہوئے۔

اسرائیل کے وزیر اعظم نفتالی بینیٹ نے مصر کے صدر عبدل فاتح السیسی سے پیر کو ملاقات کی۔ وہ ایک عشرے سے بھی زائد عرصے میں مصر کا دورہ کرنے والے پہلے اسرائیلی وزیر اعظم ہیں۔

صدر سیسی نے بحیرہ احمر کے پر فضاء مقام شرم الشیخ میں اسرائیلی رہنما کی میزبانی کی جہاں صدارتی ترجمان کے مطابق دونوں نے اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن عمل کی بحالی پر بات چیت کی۔

مصر،جو کہ عرب دنیا کا سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہے، کئی دہائیوں کی دشمنی کے بعد 1979 میں اسرائیل کے ساتھ امن معاہدہ کرنے والا پہلا عرب ملک تھا۔

مصر نے اس سال مئی میں اسرائیل اورغزہ کی پٹی پر حکمرانی کرنے والے گروپ حماس کے درمیان گیارہ روزکی خونریز لڑائی میں جنگ بندی کروانے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔

مصر تسلسل سے حماس کے رہنماوں اور اس کے سیاسی حریف فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس سے بات چیت کرتا ہے۔

ساتھ ہی قاہرہ نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی، سلامتی اور اقتصادی شعبوں میں مضبوط تعلقات استوار کر رکھے ہیں۔

اسرائیل کے وزیر خارجہ یائر لیپڈ نے اتوار کو غزہ میں رہنے کے حالات میں بہتری لانے اور نئے انفراسٹرکچر بنانے کی تجویز دی اور کہا کہ اس کے بدلے میں حماس کوپرامن رہنا ہو گا تاکہ کبھی نہ ختم ہونے والے پر تشدد حالات کا حل نکالا جائے۔

لیکن انہوں نے اس بات کو تسلیم کیا کہ ایسا اسی صورت میں ممکن ہو سکتا ہے جب مصر اس عمل میں شامل ہو اور سب لوگوں سے مذاکرات کرے۔

اسرائیلی وزیر اعظم کے مصر کے دورے سے دس روز قبل فلسطینی اتھارٹی کے صدرمحمود عباس نے مصری صدر السیسی سے ملاقات کی تھی۔

اس سے قبل کے مصر اور اسرائیل کے رہنماوں کے درمیاں آخری ملاقات جنوری 2011 میں ہوئی تھی جب اس وقت کے مصری صدر حسنی مبارک نے اسرائیلی وزیر اعظم نتین یاہو کی میزبانی کی تھی۔

اس ملاقات کے بعد صدرحسنی مبارک کی حکومت کا ایک عوامی انقلاب میں تختہ الٹ دیا گیا جس کے بعد سیاسی بحران کے دوران قاہرہ میں اسرائیلی سفارت خانے کے سامنے احتجاجی مظاہرے ہوئے اور ان کے باعث دونوں ملکوں کے تعلقات بگڑ گئے۔

مصر میں 2012 کے دوران صدر محمد مرسی کے دور میں دونوں ملکوں کے تعلقات میں سرد مہری رہی کیونکہ اسرائیل کو شک تھا کہ مرسی کی جماعت اخوان المسلمین پارٹی کے حماس سے قریبی تعلقات تھے۔

اب کئی سال بعد سیسی نے پھر سے مصر کو خطے میں استحکام کے لیے ایک اہم ملک کے طور پر لا کھڑا کیا ہے۔ اور وہ سابق صدر حسنی مبارک کی طرح اکثر امن کانفرنسوں کی میزبانی کرتے ہیں۔

یاد رہے کہ اسرائیل اور مصر مشرق وسطی میں امریکہ کے دو اہم حلیف ہیں اور سب سے زیادہ امریکی عسکری امداد حاصل کرتے ہیں، دونوں ممالک سلامتی کے امور پر تعاون کرتے ہیں۔

مشرق وسطی کے امور پر قاہرہ میں مقیم ماہر اور مصنف نیل شمع نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ اسرائیلی وزیر اعظم بینیٹ کا دورہ مصر صدر السیسی کے سابق وزیر اعظم نتن یاہو سے تعلقات رکھنے کا تسلسل ہے۔

یاد رہے کہ بینیٹ کی قوم پرست مذہبی جماعت نے جون میں نیتن یاہو کے بارہ سال کے دورحکومت کو ختم کر کے حکومت سنبھالی تھی۔

شمع کے مطابق قاہرہ اپنی کوششوں سے صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کو یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان تنازعہ کے تناظر میں استحکام کے حصول میں مصر کا کردار ناگزیر ہے۔

XS
SM
MD
LG