رسائی کے لنکس

logo-print

اسرائیل: انتخابات میں نیتن یاہو کی 'لیکود پارٹی' فاتح


فلسطینی اتھارٹی کے سینیئر عہدیدار عبداللہ عبداللہ نے اسرائیلی انتخابات کے نتائج پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔

اسرائیل کے پارلیمانی انتخابات میں وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی جماعت "لیکود" نے فتح حاصل کر لی ہے۔ بدھ کو نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ وہ آئندہ دو سے تین ہفتوں میں حکومت بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے کے بعد سامنے آنے والے نتائج میں لیکود کو 30 نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی جب کہ صہیونی یونین نے 24 نشستیں حاصل کیں۔

نیتن یاہو کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق انھوں نے پہلے ہی چھوٹی پارٹیوں سے رابطہ شروع کر دیا ہے تاکہ 120 ارکان کے پارلیمان میں حکومت سازی کے لیے درکار 61 ممبروں کی حمایت حاصل کی جاسکے۔

ایک اہم جماعت کولانو بھی ہے جس نے انتخابات میں دس نشستیں حاصل کیں۔

نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ "اسرائیل کے شہری ہم سے توقع کرتے ہیں کہ ہم جلد ہی قیادت کو یکجا کریں جو سلامتی، اقتصادی اور سماجی معاملات کے حوالے سے کام کرے، ہم اس کے لیے پرعزم ہیں اور ہم ایسا ہی کریں گے۔"

صہیونی یونین کے رہنما اسحاق ہرزوگ نے اپنی شکست تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ وہ انھوں نے فون کر کے نیتن یاہو کو مبارکباد دی ہے۔ ہرزوگ نے صحافیوں کو بتایا کہ ان کی جماعت حزب مخالف میں رہتے ہوئے اسرائیلی عوام کے لیے کام کرتی رہے گی۔

دریں اثناء فلسطینی اتھارٹی کے سینیئر عہدیدار عبداللہ عبداللہ نے اسرائیلی انتخابات کے نتائج پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔

"بدقسمتی سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ لیکود نئی حکومت تشکیل دے گی اور اس کا مطلب ہے کہ پرانی پالیسی ہی جاری رہے گی۔ نیتن یاہو اپنی مہم کے آخری دنوں میں بہت واضح انداز میں کہہ چکے ہیں کہ وہ الگ فلسطینی ریاست کی اجازت نہیں دیں گے، وہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں سے ایک سینٹی میٹر بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے، یروشلم اسرائیل کا دارالحکومت رہے گا اور اس کا مطلب یہ کہ ہے کہ امن مذاکرات کے تمام راستے بند ہو گئے ہیں۔"

XS
SM
MD
LG