رسائی کے لنکس

logo-print

اسرائیل کے پارلیمانی انتخابات میں جیت کس کی ہو گی؟


ایک اسرائیلی عرب ووٹر، ام الفہم کے ایک پولنگ اسٹیشن میں ووٹ ڈالنے کی تیاری کر رہی ہے۔ 9 اپریل 2019

اسرائیلی شہریوں نے آج منگل کے روز پارلیمانی انتخابات کے لیے ووٹ ڈالے۔ ان انتخابات میں وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو کی اقتدار پر دس سالہ گرفت داؤ پر ہے کیوں کہ انہیں فوج کے سابق سراہ بینی گانٹزکے ساتھ سخت مقابلہ درپیش ہے۔

ووٹنگ سے قبل، رائے عامہ کے جائزوں سے ظاہر ہوا ہے کہ نتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی اور گینٹز کی بلیو اینڈ وائٹ ایک سو بیس رکنی پارلیمنٹ میں برابر تعداد میں نشستیں جیت رہی ہیں۔

اگر ایسا ہوتا ہے تو 69 سالہ نتن یاہو اپنے سے منسلک نسبتاً چھوٹی دائیں بازو کی جماعتوں کے ساتھ ایک اتحاد کی مدد سے پانچویں مدت کے لیے انتخاب جیت سکتے ہیں۔

ایک اسرائیلی ووٹر ہارون جلیل کا کہنا ہے کہ میں یہاں اپنے بچوں اور اگلی نسلوں کے لیے آیا ہوں۔ اسے رکنا چاہیے۔

اس کا اشارہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو کی حکمرانی کی طرف تھا۔

ایک اور اسرائیلی ووٹر ایوی گور نے کہا کہ میں اس بارے میں بہت خوش ہوں۔ مجھے امید ہے کہ صحیح شخص جیتے گا۔

اگر نتن یاہو جیت جاتے ہیں تو وہ اس سال کے آخر میں اسرائیلی ریاست کے بانی ڈیوڈ بن گورین پر برتری حاصل کرتے ہوئے اسرائیل کے سب سے طویل مدت اقتدار میں رہنے والے لیڈر بن جائیں گے۔

لیکن نتن یاہو کو اس وقت جاری ایک فوجداری تفتیش کا بھی سامنا ہے۔ اسرائیلی اٹارنی جنرل کا کہنا ہے کہ وہ نتن یاہو پر رشوت، جعلسازی اور عہد شکنی کے الزامات عائد کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG