رسائی کے لنکس

logo-print

اسرائیل کابحری قافلے پر خود تحقیقات کا اعلان


اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ وہ پچھلے ہفتے غزہ جانے والے بحری امدادی قافلے پر کمانڈوز کے حملے کی خود تحقیقات کرےگی۔ اس حملے میں ایک بحری جہاز پر سوار آٹھ ترک اور ایک ترک نژاد امریکی کارکن ہلاک ہوگئے تھے۔ بحری قافلہ ، غزہ کی پٹی میں آباد فلسطینوں کے لیے امدادی سامان لے جارہاتھا اور قافلے میں شامل سرگرم کارکن غزہ پر اسرائیلی ناکہ بندی توڑنے کا ارادہ رکھتے تھے۔

اسرائیلی فوج کی جانب سے حملے کی تحقیقات کے لیے اپنا ایک پینل مقرر کرنے کا اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اس پر بین الاقوامی تنقید میں اضافہ ہورہاہے۔

اسرائیل بین الاقوامی تحقیقات کی اپیل پہلے ہی مسترد کرچکاہے۔ یہ اعلان اسرائیلی وزیر دفاع ایہود باراک کے اس بیان کے ایک روز بعد ہوا جس میں انہوں نے کہاتھا کہ ان کی حکومت غیر ملکی تفتیش کاروں کو اسرائیلی فوجیوں سے پوچھ گچھ کی اجازت نہیں دے گی۔

انہوں نے کہا تھا کہ اسرائیل کسی کو بھی اسرائیلی فوجیوں سے سوال جواب کرنے کی اجازت دینے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا ۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی تفتیش کار ، بقول ان کے ،دنیا کے سب سے بہترین تفتیش کار ہیں۔

ناقدین نے ، جن میں اسرائیلی حزب اختلاف سےتعلق رکھنے والے کئی قانون ساز بھی شامل ہیں،یہ سوال اٹھایا ہے کہ آیا فوج قابل بھروسہ تحقیقات کرسکتی ہے۔

فلسطینیوں کے حامی سرگرم کارکنوں اور بین الاقوامی کمیونٹی کے کئی دوسرے لوگ اسرائیل پریہ الزام لگاتے ہیں کہ 31 مئی کو اس کے کمانڈوز نے بحری قافلے کے مرکزی جہاز پر کارروائی کے دوران قوت کا بے دریغ استعمال کیاتھا۔جس کے نتیجے میں ہلاکتیں ہوئیں ۔ جب کہ اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس کے فوجیوں نے اپنی حفاظت کے لیے اس وقت کارروائی کی تھی جب ان پر حملہ کیا گیاتھا۔

اس حملے نے دنیا بھر کی توجہ اسرائیل کی جانب سے غزہ کی تین سال سے جاری ناکہ بندی کی طرف مبذول کرادی اور خود کئی اسرائیلوں میں بھی اس بارے میں شکوک و شہبات کو جنم دیا کہ آیا ان پابندیوں کو جاری رہنا چاہیے۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ غزہ کی پٹی کو کنٹرول کرنے والے عسکریت پسند گروپ حماس میں موجود اس کے دشمنوں تک ہتھیاروں کی ترسیل روکنے کے لیے پابندی ضروری ہے۔

کئی اسرائیلوں نے ناکہ بندی کے مؤثر ہونے پر سوالات اٹھائے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کو اپنی پالیسی پر نظر ثانی کرنی چاہیے اور حماس سے نمٹنے کے اپنے مقاصد کی تکمیل کے لیے کوئی اور حکمت عملی اختیار کرنی چاہیے۔

XS
SM
MD
LG