رسائی کے لنکس

logo-print

اسرائیلی فورسز کی فائرنگ سے غزہ میں ایک فلسطینی لڑکا ہلاک


فلسطینی مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے اسرائیلی فورسز اشک آور گیس کے گولے پھینک رہی ہے جب کہ مظاہرین کے جلائے ہوئے ٹائروں سے گہرا دھواں اٹھ رہا ہے۔ 7 ستمبر 2018

فلسطین کی وزارت صحت نے کہا ہے کہ اسرائیلی فورسز نے بدھ کے روز غزہ کی پٹی کے جنوبی حصے میں مظاہرین پر فائر کھول دیا جس کے نتیجے میں مظاہرے میں شامل ایک فلسطینی ہلاک ہو گیا۔

اسرائیلی فوج کی ایک ترجمان نے کہا ہے کہ انہیں فی الحال اس واقعہ کا علم نہیں ہے۔

غزہ کی وزارت صحت کے ترجمان اشرف القدرا نے کہا ہے کہ اسرائیلی فورسز نے مشرقی شہر رفاہ کے ایک 15 سالہ لڑکے ابراہیم ابو عیادا کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔

یہ واقعہ غزہ کی پٹی اور مصر کی سرحد کے قریب جنوبی حصے میں پیش آیا۔

مارچ کی 30 تاریخ سے غزہ اور اسرائیل کی درمیانی سرحد پر فلسطینی ہفتہ وار احتجاجی مظاہرے کرتے ہیں۔ جب کہ جس مظاہرے میں لڑکا ہلاک ہوا، وہ مظاہرہ بدھ کی رات کو ہوا تھا۔

اسرائیل کی فوج نے بتایا کہ دن کے وقت غزہ اور اسرائیل کی سرحد پر کئی واقعات ہوئے، جن میں سینکڑوں مظاہرین نے حصہ لیا۔ انہوں نے ٹائر جلائے اور سپائیوں پر آگ کے گولے پھینکے۔

فوج کا کہنا ہے کہ ان واقعات میں کوئی اسرائیلی فوجی زخمی نہیں ہوا

فلسطین کی وزارت صحت کے مطابق مظاہروں کا حالیہ سلسلہ شروع ہونے کے بعد سے اب تک 182 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ وہ اپنی سرحد کو پر تشدد مظاہرین سے بچانے کے لیے کارروائی کرتے ہیں جو باڑ توڑ کر اسرائیلی حدود میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG