رسائی کے لنکس

بہت سے عرب اور مسلم ملکوں سے ہمارے خفیہ تعلقات ہیں، اسرائیل


ایرانی حمایت یافتہ لبنائی عسکری گروپ حزب اللہ کے جنگجو شام میں صدر اسد می مدد کر رہے ہیں۔ فائل فوٹو

اگرچہ سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان سرکاری سطح پر سفارتی تعلقات نہیں ہیں، لیکن ان کا دشمن مشترکہ ہے جو ایران ہے۔ دونوں ہی یہ چاہتے ہیں کہ مشرق وسطی میں ایران کے اثرو رسوخ کو محدود کیا جائے۔

اسرائیلی کابینہ کے ایک وزیر نے کہا ہے کہ بہت سے عرب اور مسلم ملکوں کے ساتھ اسرائیل کے خفیہ تعلقات ہیں لیکن ان کی درخواست کی وجہ سے ہم ان کے نام ظاہر نہیں کر سکتے۔

حال ہی میں اسرائیل کی فوج کے سربراہ کی جانب سے سعودی ملکیت کے ایک نشریاتی ادارے کو دیے گئے انٹرویو نے قریبی تعلقات سے متعلق گفتگو اور قیاس آرائیوں کو مزید ہوا دی ہے۔

روزنامہ ڈان میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق اس سے قبل اسرائیل کے وزیراعظم بنجمن نتن یاہو یہ کہہ چکے ہیں کہ سعودی عرب ان پر یہ دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ لبنا نی عسکری گروپ حزب اللہ پر حملہ کرے۔

اسی طرح اتوار کے روز اسرائیل کے وزیر توانائی یوول سٹینی ٹز نے فوج کے ریڈیو پر اپنی گفتگو میں کہا کہ ہمارے کئی عرب اور اسلامی ملکوں کے ساتھ تعلقات ہیں، جن میں سے کچھ مخفی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ تعلقات کو خفیہ رکھنے پر زور دینے والے دوسری جانب ہیں۔

اگرچہ سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان سرکاری سطح پر سفارتی تعلقات نہیں ہیں، لیکن ان کا دشمن مشترکہ ہے جو ایران ہے۔ دونوں ہی یہ چاہتے ہیں کہ مشرق وسطی میں ایران کے اثرو رسوخ کو محدود کیا جائے۔

تین یاہو متعدد موقعوں پر فخریہ انداز میں یہ کہہ چکے ہیں کہ اعتدال پسند عرب ملکوں کے ساتھ اسرائیل کے تعلقات کا دائرہ بڑھ رہا ہے۔ اگرچہ انہوں نے مسلم ریاستوں کا نام نہیں لیا تاہم یہ عموماً یہ سمجھا جاتا ہے کہ ان کا اشارہ سعودی عرب اور خلیجی ریاستوں کے حکمرانوں کی طرف تھا۔

نتن یاہو نے پچھلے ہفتے اسرائیلی پارلیمنٹ کو بتایا تھا کہ ہم اسلامی انتہا پسندی کے خلاف عرب دنیا کے اعتدال پسند کیمپ کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بڑھتی ہوئی قربت اور مشاورت سیکیورٹی اور امن کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔

سعودی عرب اور ایران کے درمیان حالیہ ہفتوں میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے جس دوران لبنان کے وزیر اعظم سعد حریری نے یہ کہتے ہوئے اپنا عہدہ چھوڑ دیا تھا کہ ان کے ملک پر ایران کی گرفت بڑھ گئی ہے۔

ایران کا حمایت یافتہ لبنانی عسکری گروپ حزب اللہ اسرائیل کا کٹڑ دشمن ہے اور وہ اس کے خلاف 2006 میں جنگ بھی لڑ چکا ہے۔

حزب اللہ کے لیڈر حسن نصراللہ نے 10 نومبر کو اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ ان کے پاس ایسی اطلاعات ہیں کہ سعودی عرب نے اسرائیل سے لبنان پر حملہ کرنے کو کہا ہے۔

حال ہی میں ایران کے صدر حسن روحانی نے ان الزامات کا اعادہ کیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG