رسائی کے لنکس

logo-print

اسرائیل نے مشرقی یروشلم پر مفاہمت کو ردّ کر دیا


اسرائیل نے مشرقی یروشلم میں یہودی آباد کاروں کے گھروں کی تعمیر کو روک دینے کے لیے امریکہ کے دباؤ کو ردّ کرتے ہوئے اصرار کے ساتھ کہا ہے کہ پورا شہر اُس کے متحدہ دارالحکومت کا حصّہ ہے۔

اسرائیلی وزیرِ اعظم بن یامین نیتن یاہو کے دفتر نے جمعے کے روز کہا ہے کہ اسرائیل اپنی پالیسی تبدیل نہیں کرے گا۔ مسٹر نیتن یاہو کے دفتر نے عین اُسی وقت ایک بیان جاری کیا، جب وزیرِ اعظم نے قیامِ امن کے عمل کو آگے بڑھانے کے لیے امریکی صدر براک اوباما کے مطالبات پر غور و خوض کے مقصد سے اپنی کابینہ کا اجلاس طلب کیا تھا۔

امریکہ اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان امن مذاکرات دوبارہ شروع کرانے کی کوشش کر رہا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ اسرائیل مشرقی یروشلم میں آباد کاروں کے لیے ایک ہزار600 نئے گھروں کی تعمیر کو روک دے۔ وہ فلسطینیوں کے اس مطالبے کی بھی حمایت کرتا ہے کہ مشرقی یروشلم اُن کے مستقبل کے ملک کا دارالحکومت ہو گا۔

اس شدید اختلافی مسئلے نے دونوں ملکوں کو جس صورتِ حال سے دوچار کیا ہے، اُسے سفارت کاروں نے دونوں ملکوں کے درمیان کئى عشروں میں بد ترین بحران قرار دیا ہے۔

وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ رہائشی تعمیرات کے منصوبے سے اُن بالواسطہ مذاکرات کو نقصان پہنچے گا، جن میں امریکہ نے فریقِ ثالث بننے کی پیش کش کی ہے۔ مسٹر اوباما نے اس ہفتے واشنگٹن میں ایک ملاقات میں مسٹر نیتن یاہو سے کہا تھا کہ وہ مذاکرات کے لیے اعتماد پیدا کرنے والے اقدامات کریں۔

XS
SM
MD
LG