رسائی کے لنکس

logo-print

اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کی بات چیت میں پیش رفت کے اشارے


اسرائیلی اور فلسطینی معاہدے کے لیے پراُمید تو ہیں لیکن ان کے شک و شبہات بھی بدستور موجود ہیں۔ اس شبے کی وجہ متعدد بار جنگ بندی کی کوششوں کی ناکامی ہے۔

اسرائیل اور فلسطین کے وفود جنگ بندی معاہدے پر بات چیت کرنے کے لیے قاہرہ میں ہیں جب کہ غزہ میں 72 گھنٹے کی جنگ بندی دوسرے روز میں داخل ہو گئی۔

امریکہ اور اقوام متحدہ کے سفارتکار بھی طویل المدت جنگ بندی معاہدے کے لیے ہونے والے مذاکرات میں شرکت کریں گے اور توقع ہے کہ ان میں اسرائیل اور حماس کے درمیان لڑائی کی وجہ بننے والے معاملات پر بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

حکام کے مطابق مصر کی انٹیلی جنس کے عہدیداروں نے قاہرہ میں منگل کو دیر گئے ایک اعلیٰ سطحی اسرائیلی وفد سے ملاقات کی تھی جب کہ اس روز قبل ان کی فلسطینی وفد سے ملاقات ہوئی تھی جس میں حماس اور اسلامک جہاد گروپ کے نمائندوں بھی شامل تھے۔

مصر کے ایک عہدیدار کا کہنا ہے کہ "اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے درمیان بلواسطہ بات چیت میں پیش رفت ہو رہی ہے لیکن اس کے نتائج کے بارے میں ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔"

ان مذاکرات سے پہلے امریکہ کے وزیر خارجہ جان کیری نے برطانوی ذرائع ابلاغ سے گفتگو میں کہا تھا کہ دونوں فریقین کو ایک دوسرے کے لیے رعائتیں دینے کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکہ فلسطینیوں کو غزہ میں مزید آزادی کی حمایت کرتا ہے۔ لیکن انھوں نے متنبہ کیا کہ "یہ اسرائیل سے متعلق بڑی ذمہ داری کے ساتھ ہونی چاہیے، جس کا مطلب ہے کہ راکٹ داغنے کا سلسلہ ختم کیا جانا چاہیے۔"

اس بات چیت کو آسان تصور نہیں کیا جا رہا۔ اسرائیل غزہ کو اسلحے سے پاک کرنے کا مطالبہ کرتا ہے جب کہ حماس اسرائیل اور مصر سے غزہ کی ناکہ بندی ختم کرنے پر اصرار کرتا ہے۔

غزہ میں جنگ بندی شروع ہونے کے بعد وہاں کے لوگوں نے تباہ ہونے والے اپنے مکانوں کا جائزہ لینا شروع کیا اور بہت سے لوگوں نے ایک دوسرے کو کئی روز کے بعد دیکھا۔

اسرائیل کے حماس کے درمیان لڑائی میں 1800 سے زائد فلسطینی ہلاک ہوئے جن میں اکثریت عام شہریوں کی ہے جب کہ اسرائیل کے 64 فوجی اور تین عام شہری مارے گئے۔

اسرائیلی اور فلسطینی معاہدے کے لیے پراُمید تو ہیں لیکن ان کے شک و شبہات بھی بدستور موجود ہیں۔ اس شبے کی وجہ متعدد بار جنگ بندی کی کوششوں کی ناکامی ہے۔

گزشتہ جمعہ کو بھی تین روز کے لیے جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا لیکن یہ صرف دو گھنٹوں تک ہی برقرار رہ سکی تھی۔

منگل سے شروع ہونے والی جنگ بندی کے مطابق اسرائیل اور حماس بلواسطہ بات چیت میں طویل المدت جنگ بندی کے لیے معاہدے کا طریقہ کار طے کریں گے۔ لیکن فریقین کے درمیان اس معاملے پر بہت سے اختلافات بھی موجود ہیں۔

اسرائیل پر بین الاقوامی سطح پر خاصی تنقید کی جارہی ہے خاص طور پر اتوار کو غزہ کے علاقے رفح میں اقوام متحدہ کے زیر انتظام اسکول پر بمباری سے ہونے والی دس ہلاکتوں پر اسے شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

امریکہ نے فریقین پر تازہ جنگ بندی کی مکمل پاسداری پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس سے مسئلے کے پائیدار حل کی راہ تلاش کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

XS
SM
MD
LG