رسائی کے لنکس

logo-print

یہ وقت فلسطینیوں کےساتھ براہِ راست مذاکرات کا ہے: اسرائیل


فلسطینی صدر محمود عباس نے، جو اِن دِنوں ملائیشیا کے دورے پر ہیں، جمعرات کو نامہ نگاروں کو بتایا کہ جب تک طرفین مستقبل کی فلسطینی ریاست کی سرحدوں کے تعین پر کسی سمجھوتے پر نہیں پہنچتے، وہ براہِ راست بات چیت میں حصہ نہیں لیں گے

اسرائیلی وزیر اعظم بینجامن نتن یاہو نے کہا ہے کہ وہ فلسطینیوں کے ساتھ امن مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔

امریکہ نے اِسی ماہ بالواسطہ مذکرات کی ثالثی شروع کی، لیکن اسرائیلی لیڈر نے جمعرات کو کہا کہ ایک دوسرے سے براہِ راست بات چیت کے بغیر طرفین اپنے اختلافات کو حل نہیں کرسکتے۔

مسٹر نتن یاہو نے کہا کہ اگلے ہفتے واشنگٹن میں امریکی صدر براک اوباما سے ملاقات کے موقع پر وہ براہِ راست مذاکرات کے امکانات پر تبادلہٴ خیال کریں گے۔

اسرائیلی وزیر اعظم نے یہ بات پیرس میں کہی جہاں اُن کی ملاقات فرانس کے صدر نکولا سارکوزی سے ہوئی۔

اُنھوں نےمعاشی تعاون اور ترقی کی تنظیم میں اسرائیل کی شمولیت کا خیر مقدم کرنے کے لیے منعقدہ تقریب میں شرکت کی۔ اِس فورم کا مقصد صنعتی ملکوں میں معاشی افزائش کا فروغ ہے۔

فلسطینی صدر محمود عباس نے، جو اِن دِنوں ملائیشیا کے دورے پر ہیں، جمعرات کو نامہ نگاروں کو بتایا کہ جب تک طرفین مستقبل کی فلسطینی ریاست کی سرحدوں کے تعین پر کسی سمجھوتے پر نہیں پہنچتے، وہ براہِ راست بات چیت میں حصہ نہیں لیں گے۔

مسٹر عباس نے اِس امید کا اظہار کیا کہ سرحدوں پر سمجھوتا چار ماہ کے اندر اندر ہو سکتا ہے، جوبات عرب لیگ کی طرف سے دی گئی حتمی تاریخ سے مطابقت رکھتی ہے۔

اِس سے قبل، اسرائیلی وزیر اعظم نے فرانس کے اخبار ‘لے فِگارو’ کو بتایا کہ فلسطینی معیشت کو مضبوط کرنا امن عمل کو تقویت دے گا۔

اِس بات کو کس طرح ممکن بنایا جائے، مسرر نتن یاہو نے اِس متعلق کوئی تفصیل نہیں بتائی ، لیکن کہا کہ فلسطینی معیشت کو ترقی دینا خطے کے رواں چیلنجوں میں سے ایک ہے۔

جمعرات کے روز مغربی کنارے میں فلسطینی وزیر اعظم سلام فیاض ہزاروں رضاکاروں کے ساتھ پمفلیٹ تقسیم کرنے میں شامل ہوئے جس میں فلسطینیوں پر زور دیا گیا تھا کہ یہودی بستیوں میں بننے والی مصنوعات کا بائیکاٹ کریں۔ ایسو سئیٹڈ پریس نے خبر دی ہے کہ فلسطینی عہدے دار پانچ کروڈ ڈالر اکٹھے کر نے کے ایک منصوبے پر کام کر رہے ہیں جِس کا مقصد اُن فلسطینیوں کی مدد کرنا ہے جو اسرائیلی بستیوں میں نوکری کرنا چھوڑ دیں گے۔

جمعرات کے روز مغربی کنارے میں ایک اسرائیلی صنعتی مرکز کے دورے میں اسرائیلی پارلیمان کے اسپیکر نے اس طرح کی کوششوں پر نکتہ چینی کی۔ ریوون رِولین نے بائیکاٹ کو مخالفانہ اقدام قرار دیا جو امن کے امکانات کے لیے نقصان دہ ہے۔

رِولین نے اِس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ کہ اسرائیلی اشیا کا بائیکاٹ جلد عرب ممالک میں پھیل سکتا ہے۔

XS
SM
MD
LG