رسائی کے لنکس

logo-print

اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کا آغاز جمعے سے ہوگا


مشرق وسطیٰ کے لیے خصوصی امریکی سفارت کارجارج مچل ، اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کے آغاز کی تیاری کے سلسلے میں اسرائیلی عہدے داروں سے ملاقات کررہے ہیں۔ توقع ہے کہ مسٹر مچل ، گذشتہ 16 ماہ کے بعد دونوں فریقوں کو پہلے بالواسطہ مذاکرات پر رضامند کرنے کے بعد جمعے کے یروشلم اورمغربی کنارے کے درمیان اپنی آمدورفت کا آغاز کریں گے۔

اگرچہ دونوں فریق بالواسطہ بات چیت شروع کرنے پر متفق ہوگئے ہیں لیکن دونوں فریق اس گفت وشنید کو سرکاری طورپر ایک آغاز تسلیم نہیں کرتے۔

فلسطینی راہنما کہتے ہیں کہ انہیں ابھی امریکی ثالثی کے مذاکرات کی باضابطہ منظوری دینی ہے، لیکن انہوں نے کہا ہے کہ مذاکرات سرکاری طورپر ہفتے سے شروع ہوں گے۔اسرائیل کا خیا ل ہے کہ یہ گفت وشنید بدھ سے شروع ہوچکی ہے جب امریکی خصوصی ایلچی جارج مچل نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نتن یاہو سے ملاقات کی تھی۔

تل ابیب میں یہ ملاقاتیں بند دروازوں کے پیچھے جاری رہیں، جب کہ مسٹر مچل اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں کے لیے بیانات کا پہلا سیٹ حاصل کرنے کے منتظر تھے جسے وہ دوسرے فریق کے پاس جمعے کے روز مغربی کنارے پہنچائیں گے۔

دونوں فریقوں کی جانب سے بات چیت کے لیے رضامندی کو ایک پیش رفت کے طور پر دیکھا جارہاہے۔ ان کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ 16 ماہ سے تعطل میں چلا آرہاہے۔

ان بالواسطہ مذاکرات کا مقصد اتنا اعتماد پیدا کرنا اور اس قدر مشترکہ پہلوؤں پر پہنچنا ہے جس سے براہ راست گفت وشنید شروع کی جاسکے، کیونکہ فلسطینی اس وقت تک مذاکرات کرنا نہیں چاہتے جب تک اسرائیل مشرقی یروشلم اور مقبوضہ مغربی کنارے میں اپنی بستیوں کی تعمیر بند نہیں کردیتا۔

فلسطینی صدر کے ترجمان نبیل ابو روضینہ نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ فلسطینی یہ چاہتے ہیں کہ اسرائیل ان بالواسطہ مذاکرات میں اعتماد سازی کے لیے اقدامات کرے یا پھر امن کے عمل کے خاتمے کا خطرہ مول لے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر اسرائیل اپنی بستیوں کی تعمیر جاری رکھتا ہے اور اگر اسرائیلی رکاوٹیں ڈالنے کا سلسلہ جاری رکھتا ہے اور اگر اسرائیلی وقت ضائع کرنا جاری رکھتے ہیں تو پھر یہ ایک حقیقی مسئلہ ہوگا۔

فلسطینیوں نے بالواسطہ مذاکرات کے لیے چار مہینوں کی حتمی مدت دے رکھی ہے۔ ابو روضینہ کہتے ہیں کہ وہ اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کے لیے امریکہ پر بھروسہ کررہے ہیں ۔

وہ کہتے ہیں کہ ہم امریکیوں کوکئی بار یہ بتا چکے ہیں کہ ہم امن کے عمل سے وابستہ ہیں۔ اور انہیں ایک منصف کا کردار ادا کرنا چاہیے۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس کا اہم مقصد اپنی سیکیورٹی کو محفوظ بنانا ہے ، لیکن وہ کہتے ہیں کہ وہ ان بالواسطہ مذاکرات میں تمام مسائل پر بات چیت کے لیے تیار ہیں۔ اسرائیلی عہدے داروں نے ابھی یہ نہیں بتایا کہ وہ ان مذاکرات میں فلسطینوں کو کیا تجاویز دے رہے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ انہیں توقع ہے کہ ان مذاکرات سے کم ازکم اس بارے میں تفصیلات سامنے آجائیں گے کہ یہودی ریاست کیا پیش کش کرسکتی ہے۔


XS
SM
MD
LG