رسائی کے لنکس

غزہ میں ہلاکتوں کی آزادانہ تحقیقات کرانے سے اسرائیل کا انکار


اسرائیلی فوجیوں کی جانب سے جمعے کو غزہ میں مظاہرین پر کی جانے والی آنسو گیس کی شیلنگ کا ایک منظر

اسرائیل کے وزیرِ دفاع ایوڈگور لائبرمین نے تشدد اور فائرنگ کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے ملک کی سرحدوں کی حفاظت کرنے والے اسرائیلی فوجیوں کو میڈلز دینے چاہئیں۔

اسرائیل نے گزشتہ ہفتے فلسطینی علاقے غزہ میں اپنے فوجیوں کی فائرنگ سے ہونے والی ہلاکتوں کی آزادانہ تحقیقات سے انکار کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ ہلاک ہونے والے بیشتر فلسطینی دہشت گرد تھے۔

جمعے کو غزہ کے فلسطینی علاقے میں اسرائیل مخالف مظاہروں پر اسرائیلی فوجیوں کی فائرنگ سے 15 مظاہرین ہلاک اور 1400 سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔

فلسطینیوں کے لیے 2014ء میں ہونے والی غزہ جنگ کے بعد سے یہ سب سے ہلاکت خیز دن تھا۔

پیر کو اسرائیلی حکام نے دعویٰ کیا کہ جمعے کو فائرنگ میں مارے جانے والے 15 میں سے 10 فلسطینی "ثابت شدہ دہشت گرد" تھے جو مظاہروں کے دوران سرحد پار کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

اس سے قبل اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا تھا کہ بعض مظاہرین نے غزہ اسرائیل سرحد پر نصب باڑ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی تھی اور وہاں تعینات اسرائیلی فوجیوں پر پتھراؤ اور گھریلو ساختہ فائر بم پھینکے تھے جس کے جواب میں فوجیوں نے فائرنگ کی۔

تاہم زخمی ہونے والے بیشتر فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ انہیں محض سرحد پر لگی باڑ کے نزدیک کھڑے ہونے پر ہی گولیوں کا نشانہ بنایا گیا۔

بعض زخمیوں نے کہا ہے کہ انہیں اس وقت گولیاں ماری گئیں جب وہ اسرائیلی فوجیوں کی فائرنگ سے بچنے کے لیے سرحد سے دور بھاگ رہے تھے۔

اسرائیل کے وزیرِ دفاع ایوڈگور لائبرمین نے تشدد اور فائرنگ کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے ملک کی سرحدوں کی حفاظت کرنے والے اسرائیلی فوجیوں کو میڈلز دینے چاہئیں۔

اپنے ایک بیان میں اسرائیلی وزیرِ دفاع نے الزام عائد کیا ہے کہ غزہ میں سرگرم فلسطینی تنظیم 'حماس' جمعے کو ہونے والے تشدد کی کسی آزادانہ تفتیش میں تعاون نہیں کرے گی۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ حماس نے اپنے پرتشدد ہتھکنڈوں کو چھپانے کے لیے مظاہروں میں شریک خواتین اور بچوں کو استعمال کیا۔

غزہ میں ہونے والے تشدد کی مسلم ممالک خصوصاً ترکی نے سخت مذمت کرتے ہوئے اسرائیل کو اس تشدد کا ذمہ دار ٹہرایا ہے۔

غزہ کی صورتِ حال پر ہفتے کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بھی ہوا تھا۔ اجلاس میں تشدد کی تحقیقات اقوامِ متحدہ سے کرانے کی تجویز پر مشتمل قرارداد امریکہ نے ویٹو کردی تھی۔

فلسطینیوں کی جانب سے حالیہ مظاہرے اسرائیل کے قیام کے 70 سال مکمل ہونے پر کیے جارہے ہیں۔

اسرائیل اپنی 70 ویں سال گرہ رواں سال مئی میں منائے گا۔ لیکن اس سے قبل ہی فلسطینیوں نے اسرائیل کے ساتھ واقع غزہ کی پوری سرحدی پٹی پر احتجاجی کیمپ لگادیے ہیں۔

فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ وہ اسرائیل کی سال گرہ کو 'النکبۃ' یعنی 'تباہی' کے 70 سال مکمل ہونے کے طور پر منائیں گے۔

'النکبۃ' ان لاکھوں فلسطینیوں کی ہجرت کو کہا جاتا ہے کہ جنہیں 1948ء میں فلسطین کی سرزمین پر اسرائیل کے قیام کے باعث اپنے آبائی علاقوں سے بے دخل ہونا پڑا تھا۔

اسرائیل نے اپنے قیام کی 70 ویں سالگرہ کے موقع پر غزہ کی سرحد پر 100 سے زائد ماہر نشانہ باز تعینات کیے ہیں تاکہ سرحد پر کسی قسم کے تشدد یا حملوں کو روکا جاسکے۔

کئی فلسطینیوں نے الزام عائد کیا ہے کہ جمعے کو مظاہرین پر کی جانے والی فائرنگ میں یہی اسرائیلی نشانے باز ملوث تھے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG