رسائی کے لنکس

دہشت گرد واقعے کے بعد ٹیمپل ماونٹ دوبارہ کھولا جا رہا ہے


فائل فوٹو

اسرائیل نے کہا ہے کہ مقدس مقام 'ماونٹ ٹیمپل' کو اتوار کے روز دوبارہ کھول دیا جائے گا۔

یہودیوں اور مسلمانوں کے لیے مقدس ترین سمجھے والے والے اس مقام پر جمعہ کو تین عرب اسرائیلی عرب مسلح افراد نے فائرنگ کر کے دو اسرائیلی پولیس اہلکاروں کو ہلاک کر دیا تھا۔ کئی سالوں میں یہاں ہونے والا یہ ہلاکت خیز واقعہ تھا۔

اسرائیلی حکام نے سلامتی کے خدشات کے پیش نظر اسے نماز جمعہ سے قبل ہی بند کر دیا تھا۔

ہفتہ کو اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے ایک بیان میں کہا کہ مسلمانوں کے لیے 'قدس شریف' اور یہودیوں کے لیے 'ٹیمپل ماونٹ' کو اتوار کی دوپہر مسلمان عبادت گزاروں، سیاحوں اور یہودیوں کے لیے کھول دیا جائے گا۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ "یہاں داخلی راستے پر میٹل ڈیٹکٹرز لگائے جائیں گے جب کہ نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے کیمرے نصب کیے جائیں گے۔"

ادھر امریکہ نے یروشلم میں پیش آنے والے مہلک واقعے کی مذمت کرتے ہوئے اس پر افسوس کا اظہار کیا۔

وائٹ ہاوس سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ مقدس شہر یروشلم، جس کا مطلب "شہر امن" ہے، دہشت کی جائے وقوع بنا۔ "امریکی عوام اس پر دل گرفتتہ ہیں اور متاثرین کے خاندانوں کے لیے دعا کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں۔"

بیان میں مزید کہا گیا کہ دہشت گردی کو کسی صورت بھی برداشت نہیں کیا جائے گا۔ "یہ امن کے حصول کے منافی ہے اور ہمیں اس کی مذمت کرنے کے ساتھ ساتھ اسے جڑ سے ختم کرنا ہو گا۔"

اس مقام پر مسجد اقصیٰ اور سنہرا گنبد ہے۔ اس کی دیکھ بھال کی ذمہ داری اردن کے مذہبی حکام کے پاس ہے اور یہ اس مغربی دیوار کے ساتھ واقع ہے جو یہودیوں کے لیے مقدس ہے اور انھیں یہاں عبادت کی اجازت ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG