رسائی کے لنکس

logo-print

اسرائیل نے مشرقی یروشلم میں آباد کاروں کے گھروں کی تعمیر منجمد کردی


یروشلم شہر کے عہدے داروں نے کہا ہے کہ اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجامن نتن یاہو نے امریکہ کے ساتھ کشیدگی ختم کرنے اور مشرقِ وسطیٰ میں قیامِ امن کے معطل مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی ایک کوشش کے تحت خاموشی کے ساتھ مشرقی یروشلم میں نئى رہائشی تعمیرات کو جوں کا توں روک دیا ہے۔

عہدے داروں نے کہا ہے کہ نئى تعمیرات کی منظوری دینے کی ذمّے دار شہر کی منصوبہ ساز کمیٹی کا اُس وقت سے کوئى اجلاس طلب نہیں کیا گیا، جب اُس نے پچھلے مہینے امریکہ کے نائب صدر جو بائیڈن کے ایک دورے کے موقعے پر اعلان کیا تھا کہ وہ مشرقی یروشلم میں یہودی آباد کاروں کے لیے 1600 نئے گھروں کی تعمیر کے منصوبے پر عمل کرے گی۔

اُس اعلان نے اوباما انتظامیہ کو برہم کردیا تھا اور اُس نے اسرائیلی کے رہائشی منصوبے کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس سے دوبارہ امن مذاکرات شروع کرنے کی کوششوں کو نقصان پہنچا ہے۔فلسطینی مشرقی یروشلم کو اپنے مستقبل کے ملک کا دارالحکومت بنانا چاہتے ہیں۔اور اُن کا مطالبہ ہے کہ دوبارہ امن مذاکرات میں شامل ہونے کی ایک پیشگی شرط کے طور پر آبادکاروں کے لیے تعمیراتی منصوبے منجمد کردیے جائیں۔

اسرائیلی حکومت نے تعمیر کے کام کو منجمد کرنے کی تصدیق نہیں کی ہے ۔ ایسی کوئى تصدیق خود وزیرِ اعظم کی مخلوط حکمت کے اندر یہودی آباد کاروں کے حامیوں کو برہم کرسکتی ہے۔مسٹر نتن یا ہو اصرار کے ساتھ برسرِ عام یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ تعمیر کے کام کو نہیں روکیں گے۔

اس کے باوجود، تعمیرکے کام کو غیر سرکاری طور پر معطّل کردینے سے بھی دوبارہ یہ اُمید پیدا ہوگئى ہے کہ شائد مذاکرات شروع ہوجائیں ۔ فلسطینی صدر محمود عباس نے پیر کے روز ا س بات کی تصدیق کی تھی کہ وہ اسرائیل کے ساتھ بالواسطہ امن مذاکرات شروع کرنے کے لیے تیار ہیں۔

مسٹر عباس نے ایک اسرائیلی ٹیلی ویژن کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ اُنہیں امید ہے کہ وہ عرب لیگ سے اسی ہفتے بالواسطہ مذاکرات کی منظوری حاصل کرلیں گے۔

XS
SM
MD
LG