رسائی کے لنکس

logo-print

اسرائیل کا شام پر ’کیمیائی ہتھیاروں‘ کے استعمال کا الزام


اسرائیل کے ایک عہدیدار کا کہنا ہے کہ ان ہتھیاروں میں اعصاب کو متاثر کرنے کرنے والا ’سارین‘ مادہ استعمال کیا گیا۔

اسرائیل نے الزام لگایا ہے کہ شام نے صدر بشار الاسد کے مخالفین کے خلاف کیمیائی ہتھیار استعمال کیے ہیں۔

اسرائیل کے ملٹری انٹیلی جنس کے تحقیق اور تجزیے کے شعبے کے سربراہ بریگیڈیئر آٹیائی برن نے منگل کو سکیورٹی کانفرنس کو بتایا کہ ان ہتھیاروں میں ممکنہ طور پر اعصاب کو متاثر کرنے والا ’سارین‘ مادہ استعمال کیا گیا۔

شامی حکومت اور باغی کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال سے متعلق ایک دوسرے پر الزامات لگاتے رہے ہیں۔

اقوام متحدہ ان دعوؤں کی تحیققات کے لیے اپنی ٹیم شام بجھوانا چاہتی ہے۔ رواں ماہ کے اوائل میں شام نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون کی طرف سے ’انسپکٹر‘ بھیجنے کی درخواست مسترد کر دی تھی۔

بان کی مون نے کہا کہ جیسے ہی اجازت ملے گی اقوام متحدہ کا مشن شام جانے کے لیے تیار ہے جو دستیاب معلومات کی بنیاد پر حقائق جاننے کے لیے کام کرے گا۔

سارین کیمیائی ہتھیاروں میں سب سے زیادہ مہلک ہے جس کی زیادہ مقدار اپاہج کرنے کے علاوہ نظام تنفس کو ناکارہ کر سکتی ہے۔

جب کہ اس کی تھوڑی مقدار بینائی اور دل کی دھڑکن کو متاثر کر سکتی ہے۔ یہ مادہ ابتدائی طور پر کیڑے مار ادویات کے طور پر تیار کیا گیا تھا لیکن بعد میں اسے مہلک حملوں کے لیے استعمال کیا جانے لگا۔

1995ء میں ٹوکیو کے ایک زیر زمین ریلوے اسٹیشن سارین حملے میں 13 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
XS
SM
MD
LG