رسائی کے لنکس

logo-print

اسرائیل نےمغربی کنارےکی ناکہ بندی کردی


اسرائیل نے فلسطینیوں کی جانب سے ہنگاموں کے خدشے کے پیشِ نظر مغربی کنارے کو آنے جانے والے تمام راستے بند کردیے ہیں اور یروشلم کے قدیم شہر کے گردحفاظتی انتظامات کو بہت سخت کردیا ہے۔

اسرائیلی حکام نے فوج کو حکم دیا ہے کہ وہ جمعرات کی آدھی رات سے ہفتے کی آدھی رات تک، 48 گھنٹوں کے لیے مغربی کنارے کی سرحد کو بند کردے۔اسرائیلی پولیس اور فوج کے تقریباً 3000 ارکان یروشلم کے پُرانے شہر کے اطراف کے علاقے میں گشت کررہے ہیں۔

حکومت نے جمعے کے روز 50 سال سے کم عمر کے آدمیوں کو مسجدِ اقصیٰ میں جمعے کی نماز ادا کرنے سے روک دیا۔اسرائیلی پویس کا کہنا ہے کہ اُسے انٹیلی جینس سے اطلاع ملی تھی کہ فلسطینی نوجوان جمعے کی نماز کے بعد ہنگامے کریں گے۔

حکام نے معمولی جھڑپوں کی اطلاع دی ہے اور ان میں ایسے چار فلسطینی لڑکوں کی گرفتاری بھی شامل ہے ، جن پر اسرائیلی فوجیوں پر پتھر پھینکنے کا الزام ہے
.
مسجد الاقصیٰ ایک ایسے علاقے میں واقع ہے، جہاں مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان تصادم ہوتے رہے ہیں۔گذشتہ جمعے کے روز اسی علاقے میں اسرائیلی فوجیوں اور فلسطینیوں کے درمیان جھڑپیں ہوئى تھیں۔

اسرائیل نے جب سے متنازع مشرقی یروشلم میں یہودی آبادکاروں کے لیےایک ہزار 600 رہائشی یونٹوں کی تعمیر کے منصوبے کا اعلان کیاہے، علاقے میں کشیدگی بڑھ گئى ہے۔ فلسطینی مشرقی یروشلم کو مستقل میں اپنے ملک کا دارالحکومت بنانا چاہتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG