رسائی کے لنکس

logo-print

گھریلو تشدد کے خلاف اسرائیل بھر میں ہزاروں خواتین کا مظاہرہ


اسرائیل میں خواتین نے گھریلو تشدد کے خلاف مظاہرے میں سرخ رنگ کے سینکڑوں جوتے شاہراہوں پر رکھ دیے۔ 4 دسمبر 2018

اسرائیل میں منگل کے روز ہزاروں خواتین نے گھریلو تشدد کے خلاف مظاہرہ کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا وہ اسے روکنے کے لیے مزید اقدامات کرے۔

مظاہرہ کرنے والی خواتین کا کہنا تھا کہ گھریلو تشدد کے نتیجے میں اس سال 24 خواتین اور لڑکیاں ہلاک ہو گئیں۔

خواتین نے سڑکیں، شاہرائیں، یونیورسٹیاں اور حتی کہ ملک کے مرکزی ایئر پورٹ بن گوریان پر بھی عارضی طور پر کام رکوا دیا جس سے پروازوں میں تاخیر ہوئی۔

احتجاج کی اپیل خواتین کی تنظیموں کے ایک اتحاد نے دی تھی جو یہ چاہتا ہے کہ حکومت خواتین کے خلاف تشدد روکنے کے لیے 6 کروڑ 70 لاکھ ڈالر کے اس منصوبے پر عمل کرے جس کا وعدہ اس نے پچھلے سال کیا تھا۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ اس سال گھریلو تشدد کا نشانہ بننے والی زیادہ تر خواتین نے پولیس کو بتایا کہ انہیں اپنے تحفظ سے متعلق خدشات ہیں۔

یروشلم میں تقریباً 50 عورتوں نے شہر کا داخلی راستہ بند کر دیا۔ انہوں نے کتنے اور بینر اٹھا رکھے تھے جن پر درج تھا کہ بہت خواتین کا قتل، بس بہت ہو چکا۔

خواتین نے تل ابیب کے مرکزی چوراہے کو بند کر دیا۔ لگ بھگ 200 عورتیں سرخ رنگ کے جوتے پہنے ہوئے تھیں، جسے خواتین کے خلاف تشدد کی ایک علامت کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔

مظاہرے میں شامل خواتین نے وزیر اعظم بنجمن نتن یاہو سے خواب غفلت سے جاگنے کی اپیل کی۔ خواتین بینر اٹھائے ہوئے تھیں جن پر لکھا تھا کہ عورتوں کا خون ارزاں نہیں ہے۔ ایک اور بینر پر یہ عبارت درج تھی کہ ہمیں ہلاک کیا جا رہا ہے اور حکومت خاموش بیٹھی ہے۔

اسرائیل کے صدر ریون ریولن نے اپنے ایک ٹویٹ میں اپنی اہلیہ کی تصویر پوسٹ کرتے ہوئے خواتین کے مظاہرے کی حمایت کی ہے۔ ان کی اہلیہ نچاما ریولن صدارتی محل کی کارکن خواتین کے ساتھ مظاہرے میں شریک تھیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG